مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سعودی ولی عہد اور روسی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

روسی صدر کا مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تشویش کا اظہار،علاقائی امن و امان کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے سعودی عرب کےولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے دوران مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیا ہے۔

کریملن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دشمنی کے خاتمے اور تنازعے کے طویل مدتی حل تک پہنچنے کے لیے سیاسی و سفارتی کوششوں کو مزید موثر بنانے کی ضرورت کی توثیق کی۔

یہ اہم رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ فضائی دفاع کے شعبے میں معاہدے کیے ہیں تاکہ خطے کے ممالک کو ان ایرانی ڈرون حملوں سے بچایا جا سکے جن کا سامنا تہران پر امریکی اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے کیا جا رہا ہے۔

کریملن کے مطابق سعودی ولی عہد اور روسی صدر نے گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ میں عسکری اور سیاسی صورتحال کی ابتری پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

روسی صدارتی محل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بحران سے متعلق تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا گیا اور خطے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال، عام شہریوں کے جانی نقصان اور تزویراتی اہمیت کے حامل بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر گہری تشویش ظاہر کی گئی۔

بیان میں روس اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری تعاون کی اعلیٰ سطح پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جو دوستانہ اور باہمی مفاد کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ بحران کی وجہ سے توانائی کی پیداوار اور نقل و حمل میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں عالمی توانائی کی سکیورٹی پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں تیل کی عالمی منڈی کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے روس اور سعودی عرب کی اوپیک پلس کے فریم ورک کے تحت مشترکہ جدوجہد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں