ايران..."معاہدے کی تجویز" پر ظریف اور روحانی پر تنقید ، دونوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ
سخت گیر حلقوں کے لہجے میں تلخی، سابق ایرانی صدر اور وزیر خارجہ پر "غداری" کے الزامات
ایران کے سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو امریکہ کے ساتھ معاہدے کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی تجویز پیش کرنے پر ملک کے اندر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ امریکی جریدے "فارن افیئرز" میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ظریف نے موجودہ مقتدر حلقوں کو مشورہ دیا کہ وہ "برتری کی صورت حال" کو جنگ جاری رکھنے کے بجائے فتح کے اعلان اور ایک ایسے معاہدے کے لیے استعمال کریں جو تنازع ختم کر سکے اور نئی جنگ کو روک سکے۔
مضمون کی اشاعت کے ساتھ ہی ظریف نے "ایکس" پلیٹ فارم پر واضح کیا کہ وہ یہ تجویز پیش کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ایران کے مفادات کے مطابق شرائط پر ہونا چاہیے۔
اس بیان پر حکومتی حلقوں کے قریبی افراد نے غصے کا اظہار کیا ہے۔ سابق مرشدِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے ثنا خواں سعید حدادیان نے ظریف کو "جاسوس" قرار دیتے ہوئے انہیں اپنے بیانات سے دست بردار ہونے کے لیے تین دن کی مہلت دی اور بصورتِ دیگر کارروائی کی دھمکی دی۔ اسی طرح اخبار "کیہان" کے چیف ایڈیٹر حسین شریعتمداری نے ان تجاویز کو "ایران کے دشمنوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا نسخہ" قرار دیتے ہوئے عدلیہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔
سابق ڈپٹی اسپیکر علی مطہری کا کہنا ہے کہ "جنگ ختم کرنے کا وقت ابھی نہیں آیا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی کوششیں جنگ کے دوران بھی جاری رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے علی لاریجانی کی مثال دی جو جنگ کے آغاز میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے اور تہران میں ایک حملے کے دوران جاں بحق ہو گئے تھے۔
دوسری جانب سابق صدر حسن روحانی نے بھی فوری سیاسی اور اقتصادی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں بقا کے لیے نظم و نسق میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔ بدھ کے روز اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ عوامی حمایت ہی استحکام کا ستون ہے اور معاشرے میں پائے جانے والے عدم اطمینان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ جنگ کا خاتمہ ایسی پالیسیوں سے جڑا ہونا چاہیے جو داخلی اعتماد بحال کریں اور سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں۔
رپورٹوں کے مطابق ایران میں انتہا پسند گروہوں نے جنگ کے دوران روحانی اور ظریف کے خلاف سخت مہم چلائی ہے، جس میں بینرز لگا کر دونوں پر "غداری" کا الزام لگایا گیا اور عدلیہ سے انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
-
ایران جنگ کے آغاز سے اب تک 365 امریکی فوجی زخمی ہوئے: پینٹاگون
امریکی وزارتِ جنگ کے آن لائن دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جمعہ تک 247 فوجی، 63 ...
مشرق وسطی -
ایران نے حزب اختلاف سے منسلک دو افراد کو پھانسی دے دی: میڈیا
ملکی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے ہفتے کے روز دو افراد کو پھانسی دے دی جن کے ...
مشرق وسطی -
اسلام آباد جانے سے کبھی انکار نہیں کیا : ایرانی وزیر خارجہ
"ہم خود پر مسلط کردہ غیر قانونی جنگ کے حتمی اور مستقل خاتمے کے لیے شرائط چاہتے ...
مشرق وسطی