عراق کے صوبہ بصرہ کے علاقے ''البرجسيہ ''میں غیر ملکی تیل کمپنیوں کے ذخیرہ گھروں میں ڈرون طیارے کے گرنے کے بعد آگ لگ گئی، تاہم ابھی تک کسی کے زخمی ہونے یا نقصانات کے حجم کی تصدیق نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ عراقی نیوز ایجنسی نے 31 مارچ کو بصرہ کے ''غرب القرن 1 ''تیل کے میدان میں ایک ڈرون طیارے کے گرنے کی اطلاع دی تھی۔
سکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ہفتہ کی صبح بصرہ کے مغرب میں غیر ملکی تیل کمپنیوں کے ذخیرہ گھروں میں ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
عراق اقتصادی بحران کا شکار ہے کیونکہ ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے تیل کے شعبے میں زبردست نقصان ہوا ہے، جس سے حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
عراق کی تیل کی برآمدات 3اعشاریہ4 ملین بیرل یومیہ سے گھٹ کر تقریباً 250 ہزار بیرل ہو گئی ہیں، جبکہ اسٹوریج ٹینک خطرناک حد تک بھر گئے ہیں۔
ایران نے ابنائے ہرمز بند کر رکھاہے، جس سے بنیادی برآمدی راستہ متاثر ہوا اور پیداوار تقریباً تین چوتھائی کم ہو گئی ہے۔
موجودہ عراقی حکومت بحران کے انتظام کے محدود اختیارات رکھتی ہے اور پانچ ماہ سے انتخابات کے بعد اقتدار میں ہے۔
گزشتہ تین ہفتوں سے امریکی حملے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے خلاف جاری ہیں، جن میں اس ہفتے سات عراقی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں عراق کے معیشتی ڈھانچے کی جدید کاری اور تنوع میں ناکامی نے ملک کو اس طرح کے بحرانوں کے لیے زیادہ کمزور بنا دیا ہے۔
عراق دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے، جو سب سے زیادہ تیل پر انحصار کرتے ہیں، خام تیل کی آمدنی ملک کے بجٹ کا تقریباً 90 فیصد ہے اور 90 فیصد صارفین کی ضروریات جیسے خوراک اور ادویات کی درآمد پر بھی انحصار کرتا ہے، جن میں زیادہ تر ہرمز کی خلیج سے گزرتے ہیں۔