بارودی سرنگوں کے خاتمے کیلئے سعودی عرب کے منصوبوں کی مجموعی لاگت 294 ملین ڈالر
مملکت کی کوششیں صرف بارودی مواد کو ہٹانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے انسانی اثرات کو کم کرنے تک بھی پھیلی ہوئی ہیں، جن کے تحت طبی پروگراموں سے تقریباً 92 ہزار افراد مستفید ہو چکے ہیں۔
کنگ سلمان ریلیف اور انسانی ہمدردی سینٹر نے یمن، آذربائیجان اور عراق میں سعودی عرب کے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے منصوبوں کی مجموعی لاگت کا انکشاف کیا ہے، جو 294 ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
سعودی عرب اس سینٹر کے ذریعے اپنے انسانی ہمدردی اقدامات اور نوعیت کے منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے، جن کا مقصد شہریوں کی حفاظت اور متاثرہ افراد کی مشکلات کو کم کرنا ہے، اس کے لیے خصوصی پروگرامز کے ذریعے خطرات کم کرنے اور معاشرتی تحفظ کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یمن میں ''مسام ''منصوبہ ایک اہم انسانی ہمدردی پروجیکٹ کے طور پر جاری ہے، جونہ پھٹنے والے بارودی مواد اور خود ساختہ دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے پر مرکوز ہے۔ اس منصوبے کی کل لاگت 290161890 امریکی ڈالر ہے۔
جون 2018 سے اب تک مسام کے ٹیموں نے 551189 بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد ہٹایا، جبکہ 77994540 مربع میٹر رقبہ صاف کیا، جس سے گاؤں، سڑکیں، کھیت اور اہم سہولیات محفوظ ہوئیں۔
اس منصوبے میں 746 ماہر اور فیلڈ اسٹاف کام کر رہے ہیں، جو انتہائی مشکل حالات میں انسانی ہمدردی کے تحت کام انجام دے رہے ہیں۔
سینٹر نے عراق میں بارودی سرنگوں کے سروے اور صفائی کے لیے 1 ملین امریکی ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی، اور آذربائیجان میں بارودی سرنگوں کے خاتمے کے منصوبے کے لیے 3 ملین امریکی ڈالر کی مدد کی، تاکہ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
سینٹر کی کوششیں صرف بارودی سرنگوں کے خاتمے تک محدود نہیں، بلکہ متاثرین کے لیے انسانی اثرات کو کم کرنے پر بھی مرکوز ہیں۔
پروجیکٹ کے تحت پروتھیٹک آلات اور جسمانی بحالی کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں، جس سے تقریباً 92000 افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
مسام کے ڈائریکٹر اسامہ القصیبی کے مطابق نازعینِ بارودی سرنگ سب سے اہم اور مشکل کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ ان کا ہر دن خطرناک ہوتا ہے اور معمولی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ اقدامات اس وقت جاری ہیں، جب دنیا بھر میں بارودی سرنگیں ایک سنگین انسانی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق ہر گھنٹے میں ایک شخص بارودی سرنگ یا نہ پھٹےہوئے بارودی موادیا دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے ہلاک یا زخمی ہوتا ہےاور اس کے اثرات خاص طور پر بچوں پر سب سے زیادہ مرتب ہوتے ہیں۔