عراق آبنائے ہرمز پر عائد کسی بھی پابندی سے مستثنیٰ ہے: ایرانی فوجی قیادت
28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی جنگ عراق تک پھیل گئی
ایرانی میڈیا نے ہفتے کے روز ایرانی فوجی ہیڈ کوارٹر ’’ خاتم الانبیاء ‘‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ عراق کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی تمام پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ یہ اعلان تہران کی جانب سے اس تزویراتی آبی گزرگاہ پر کنٹرول سخت کرنے کے دوران بغداد کے لیے ترجیحی سلوک کا اشارہ ہے۔ ایرانی ’’ خاتم الانبیاء ‘‘ مرکز کے ترجمان ابراہیم ذو الفقاری نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں عائد پابندیوں سے عراق کو نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات صرف دشمن ممالک پر لاگو ہوتے ہیں۔
ابراہیم ذو الفقاری نے ایک ویڈیو خطاب میں کہا کہ برادر ملک عراق ان تمام پابندیوں سے مستثنیٰ ہے جو ہم نے آبنائے ہرمز میں لگائی ہیں کیونکہ ان پابندیوں کا اطلاق صرف دشمن ممالک پر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک عراقی خود مختاری کا بے حد احترام کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام تنہا نہیں تھے اور عراقی عوام کے موقف حمایتی تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پیش رفت عراق کو اپنی سرزمین پر مسلط امریکی موجودگی کو ختم کرنے اور پائیدار سیکیورٹی حاصل کرنے کا ایک تاریخی موقع فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی اور عراقی عوام ایک ہی محاذ پر کھڑے ہیں اور اس جنگ میں مل کر فتح حاصل کریں گے۔ انہوں نے حمایت کرنے والی فورسز، گروپوں، مذہبی اور قبائلی شخصیات کے موقف کی بھی تعریف کی ۔ یاد رہے ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصادم بڑھنے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر اسے دوبارہ کھولنے کے لیے طاقت کے استعمال کی دھمکی دی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں عراق بھی شامل ہے کیونکہ اس کی تیل کی پیداوار یومیہ تقریباً 35 لاکھ بیرل سے کم ہو کر تقریباً 13 لاکھ بیرل رہ گئی ہے۔ جہاز رانی میں خلل کے باعث برآمدات کم ہو کر تقریباً 8 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہیں۔
28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی جنگ عراق تک پھیل گئی ہے جہاں حشد الشعبی کے ہیڈ کوارٹرز اور تہران کے وفادار عراقی مسلح گروہوں پر امریکہ اور اسرائیل سے منسوب فضائی حملے کیے گئے۔ عراقی گروپوں نے امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی۔ ایران نے کردستان کے علاقے میں موجود ایران مخالف کرد گروہوں کے خلاف بھی حملے کیے۔ قبل ازیں ہفتے کے روز پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے خلیج میں اسرائیل سے منسلک ایک بحری جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنی ویب سائٹ ’’ سپاہ نیوز ‘‘ کے ذریعے بتایا کہ انہوں نے تجارتی جہاز ’’ ایم ایس سی ایشیکا ‘‘ کو ’’ آبنائے ہرمز ‘‘ میں نشانہ بنایا ہے۔ بحریہ نے بتایا کہ ایک ڈرون جہاز سے ٹکرایا اور جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ جہاز رانی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ "میرین ٹریفک" نے بتایا کہ یہ جہاز لائبیریا کے جھنڈے تلے کام کر رہا تھا۔