ایران نے ثالثین کے ذریعے پیش کردہ حالیہ جنگ بندی تجاویز کے جواب میں اپنے مؤقف اور مطالبات وضع کر لیے ہیں، وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو بتایا اور مزید کہا کہ مذاکرات "الٹی میٹم اور جنگی جرائم کے ارتکاب کی دھمکیوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔"
ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا، تہران کے اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر کچھ تقاضے ہیں جو پہلے ہی ثالثی چینلز کے ذریعے پہنچا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 15 نکاتی منصوبے جیسے سابقہ امریکی مطالبات "غیر معقول" ہونے کے باعث مسترد کر دیے گئے تھے۔
بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، "ایران اپنے جائز مطالبات کو واضح طور پر بیان کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا اور ایسا کرنے کو سمجھوتے کی علامت نہیں بلکہ اپنے مؤقف کے دفاع میں اس کے اعتماد کی عکاسی سمجھا جائے"۔
"ہم نے اپنے جوابات مرتب کر لیے ہیں" اور مقررہ وقت پر تفصیلات کا اعلان کریں گے، ایران اور امریکہ میں جنگ بندی کی جاری کوششوں کے حوالے سے ایک ایرانی صحافی کے سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا۔
-
ایران کا اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے پر عدم فعالیت کا الزام
ادارے کو امریکی اسرائیلی حملوں کے خطرے سے خبردار کیا
مشرق وسطی -
نائب وزیرِ خارجہ ایران:ٹرمپ کی شہری مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں جنگی جرائم ہو سکتی ہے
انہوں نے اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون کی دفعات کا حوالہ دیا
مشرق وسطی -
اسرائیل کا ایران کی سب سے بڑی پیٹروکیمیکل تنصیب پر حملہ... تل ابیب دھماکوں سے لرز اٹھا
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مسلسل دوسرے ماہ بھی جنگ جاری ہے، جس کے دوران ...
مشرق وسطی