اسرائیل کا ایران کی سب سے بڑی پیٹروکیمیکل تنصیب پر حملہ... تل ابیب دھماکوں سے لرز اٹھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مسلسل دوسرے ماہ بھی جنگ جاری ہے، جس کے دوران عسلويہ میں پارس جنوبی پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں کئی دھماکے سنے گئے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے ایک وڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ فوج نے ایران کی سب سے بڑی کیمیائی تنصیب پر زوردار حملہ کیا ہے، جو ملک کی 50 فیصد پیٹروکیمیکل پیداوار کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی سے دو اہم تنصیبات ناکارہ ہو گئی ہیں جو ایرانی پیٹروکیمیکل برآمدات کا 85 فیصد فراہم کرتی تھیں، جس سے ایرانی نظام کو اربوں ڈالرز کا شدید معاشی نقصان پہنچا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق عسلويہ میں دو یوٹیلیٹی کمپنیوں پر حملے سے پیٹروکیمیکل یونٹس کی بجلی منقطع ہوگئی، جبکہ بوشہر کے حکام نے بھی ان یونٹس کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ایرانی پیٹروکیمیکل کمپنی کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ جنوب مغربی ایران کے شہر بوشہر میں فضائیہ کے گولہ بارود کے ڈپو کو نشانہ بنانے کی وڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں شدید دھماکے اور دھواں دیکھا جا سکتا ہے۔ عبادان شہر اور تہران کے مغرب میں واقع رباط کریم میں بھی گولہ بارود کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔ تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ایک اسٹیشن پر حملے سے گیس کی ترسیل میں عارضی خلل پڑا اور گیس کا اخراج ہوا۔

جوابی کارروائی میں ایران کی جانب سے وسطی اسرائیل کی طرف میزائل داغے گئے، جس سے تل ابیب میں دھماکے سنے گئے اور 30 سے زائد مقامات پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے۔ حیفہ میں ایک رہائشی عمارت پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔ ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل سے وابستہ ایک کنٹینر جہاز پر کروز میزائل سے حملہ کیا جس میں آگ لگ گئی، جبکہ امریکی بحری بیڑے "یو ایس ایس ٹریپولی" کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی فوج نے تل ابیب، ایلات اور بحرین و کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں کا اعلان کیا ہے۔

یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 45 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجاویز پر بحث ہو رہی ہے تاکہ مستقل امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کل منگل کی شام تک کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے پلوں اور توانائی کی تنصیبات سمیت اہم ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں