مشرق وسطیٰ جنگ میں سویلینز اہداف کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے : عالمی ریڈ کراس سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کی سربراہ نے پیر کے روز مشرق وسطیٰ جنگ میں سویلینز اہداف کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کی صدر میرجانا سپالجارک نے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا پہلے ہی ضروری سول انفراسٹرکچر کی وسیع پیمانے پر تباہی ہو چکی ہے۔ ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے ساتھ میل نہیں کھاتی ہیں۔

سپالجارک کی طرف سے یہ مذمتی بیان امریکی صدر ٹرمپ کے تازہ انتہائی دھمکی آمیز بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ جب صدر ٹرمپ نے ایران کے سب سے بڑے پل کی تباہی کی خبر اور تصاویر اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں اور ایران کو پل اور سڑکیں تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ حتیٰ کہ جہنم بنا دینے کا کہا ہے۔ اب انہوں نے یہ بھی کہہ ڈالا ہے کہ امریکہ ایک ہی رات میں ایران کو مکمل تباہ کرسکتا ہے۔

اس سے پہلے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی جنگ کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایران کے مناب شہر میں بچیوں کے پرائمری سکول کونشانہ بنا کر 170 بچیوں کو قتل کر دیا تھا۔ بعد ازاں اس جنگ میں یونیورسٹیوں، ہسپتالوں سمیت ہر چیز نشانے پر ہے۔

ریڈ کراس کا ادارہ پوری دنیا کےلیے جنیوا کنونشن پر عمل کرانے کے لیے ذمہ دار ادارہ ہے۔ اس کی طرف سے پہلے بھی خبردار کیا جا چکا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہری اہداف کو نشانہ نہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران بھی خلیجی ملکوں میں اہداف لے رہا ہے۔

صدر ریڈ کراس کمیٹی نے کہا 'سویلینز اہداف کے لیے جان بوجھ کر دھمکیاں دینا اور سول انفراسٹرکچر، جوہری تنصیبات اور بجلی پیدا کرنے کے مراکز کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں دینا جنگ کے لیے نئی اقدار نہیں بننا چاہییں۔'

اہم بات ہے کہ ریڈ کراس کی صدر کے بیان کے بعد صدر ٹرمپ نے منگل کے دن کو ایران میں پاور پلانٹس اور پلوں کی تباہی کا دن قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایرانی توانائی مراکز کو نشانے پر لینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

سپالجارک نے مطالبہ کیا ریاستوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیانات اور اقدامات کے دوران جنگی قانون کا احترام کریں۔ کیونکہ دنیا ایسے سیاسی کلچر کے تابع نہیں ہو سکتی جس میں زندگی پر موت کو فوقیت دی جاتی ہو۔ انہوں نے کہا مشرق وسطیٰ میں ریڈ کراس کی ٹیمیں بمباری سے کی جانے والی تباہیوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا پاور پلانٹس، پانی کی ترسیل، ہسپتالوں، سڑکوں، گھروں، سکولوں اور یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانا تشویشناک ہے مگر اس سے بھی زیادہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے کہ ان حملوں کے اثرات آنے والی کئی انسانی نسلوں کے لیے بھی خطرناک ہوں گے۔

ریڈ کراس صدر نے فوری طور پر تمام جنگی فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سویلینز کو نشانہ نہ بنائیں۔ کیونکہ سویلینز کو نشانہ نہ بنانا بین الاقوامی قانون کا تقاضا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں