آبنائے ہرمز کے لیے ایرانی دھمکیوں کے بعد... دنیا کو توانائی کی ترسیل کے نئے راستوں کی تلاش

خلیجی ممالک کا سپلائی چین کی ازسرِ نو تشکیل اور اپنی معیشتوں کو کسی ایک گزرگاہ پر منحصر نہ رکھنے کا رجحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

"جادوگر کا جادو اسی پر الٹ گیا" کے مصداق ... آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ایرانی دھمکیوں کے نتائج اب خود ایران کے گلے پڑ رہے ہیں۔ ان دھمکیوں نے نہ صرف توانائی کی منڈیوں اور جہاز رانی میں عارضی تناؤ پیدا کیا، بلکہ ایک گہرا سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ان اقدامات نے خود اس آبنائے کی تزویراتی اہمیت کو کمزور کر دیا ہے؟

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں خلیج عرب میں 800 سے زائد بحری جہاز پھنس کر رہ گئے تھے، جو اب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد وہاں سے نکلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ فروری کے آخر میں ایران نے اس گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کرتے ہوئے وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، جس نے ماہرین کے مطابق اس بین الاقوامی آبی راستے کی اہمیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک اور بڑے عالمی صارفین اب مستقبل کے لیے متبادل تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" کے مطابق خلیجی ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے نئی پائپ لائنوں کے قیام کے تزویراتی منصوبوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ اقتصادی ماہر محمد العنقری کا کہنا ہے کہ اگلے دس سالوں میں اس آبنائے کی اہمیت کم ہو جائے گی کیونکہ خلیجی ممالک اپنی معیشتوں کو کسی ایک راستے کے مرہونِ منت نہیں رکھنا چاہتے۔

اس تبدیلی سے سعودی عرب کو جغرافیائی طور پر بڑا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ سعودی عرب کی دو ساحلوں (بحیرہ احمر اور خلیج عرب) پر موجودگی اور اس کا وسیع رقبہ اسے سپلائی چین کے نقشے دوبارہ ترتیب دینے میں مدد دے رہا ہے۔ یہ اقدام "سعودی وژن 2030" کے مقاصد کے عین مطابق ہے، جو مملکت کو لوجسٹک کے عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کرے گا۔

حالیہ جنگ نے سعودی عرب کی 1200 کلومیٹر طویل "ایسٹ-ویسٹ" پائپ لائن کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران قائم کی گئی یہ پائپ لائن یومیہ تقریباً 70 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز کے بجائے براہِ راست بحیرہ احمر کی ینبع بندرگاہ تک پہنچاتی ہے۔ اس کے علاوہ، جنوبی کوریا اور تائیوان جیسے ممالک نے بھی اپنے بحری جہاز سعودی عرب کی بحیرہ احمر والی بندرگاہوں پر بھیجنا شروع کر دیے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز سے بچا جا سکے۔

عراقی آئل مارکیٹنگ کمپنی (SOMO) نے بھی اپریل سے جون تک ماہانہ 6 لاکھ 50 ہزار ٹن فیول آئل شام کے راستے سڑک کے ذریعے سپلائی کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔ اگرچہ یہ راستہ مہنگا ہے، لیکن ایران پر بم باری اور آبی راستے میں رکاوٹوں کی وجہ سے عراق دہائیوں بعد اس زمینی متبادل کو استعمال کرنے پر مجبور ہوا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امن معاہدہ ہو بھی جائے، تب بھی مارکیٹ اب آبنائے ہرمز کے خطرات کو اپنی قیمتوں میں شامل رکھے گی۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے دو ہفتوں کے لیے جہازوں کے محفوظ گزرنے کی منظوری اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور "تکنیکی حدود" کے اندر دی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے "مکمل، فوری اور محفوظ" افتتاحی اعلان کیا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران ایران مبینہ طور پر فی جہاز 20 لاکھ ڈالر تک فیس وصول کر رہا تھا، تاہم اب جہاز رانی کرنے والی کمپنیاں جنگ بندی کی باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ اپنے محصور جہازوں اور ملاحوں کو بحفاظت نکال سکیں۔ ان تمام واقعات نے عالمی معیشت کو یہ سبق دیا ہے کہ ایک ہی آبی راستے پر انحصار کرنا کس قدر پُر خطر ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں