عراق میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ جنگجو گروپ کتائب حزب اللہ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے زیر حراست لی گئی امریکی صحافی شیلی کٹلیسن کو رہا کردے گا۔ اس امریکی صحافی کو جنگجو گروپ نے پچھلے ہفتے بغداد سے پکڑا تھا۔
گروپ کے سیکیورٹی سے متعلق عہدے دارابو مجاہد الصاف نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم کے قومی موقف کو تسلیم کرتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس صحافی کو رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم رہائی اس شرط پر کی جائے گی کہ یہ صحافی خاتون فوری طور پر ہمارا ملک چھوڑ دے گی۔
گروپ کے عہدے دار نے اس بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ امریکی خاتون صحافی کو رہا کرنے کا یہ واقعہ ہر بار نہیں دہرایا جائے گا۔ کیونکہ ہم اس وقت صہیونی امریکی دشمن کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ اس لیے اس طرح کے واقعات میں کئی پہلو قابل قبول نہیں ہو سکتے۔
عراق کے ایک سنیئر سیکورٹی ذمہ دار نے 'اے ایف پی' کو بتایا تھا کہ بدھ کے روز حکام نے ایرانی حمایت یافتہ گروپ کے رکن کو حراست میں لیا کہ اس پر شبہ تھا کہ امریکی صحافی کو گرفتار کرنے کے واقعے سے اس کا بھی تعلق ہے۔
ادھر واشنگٹن کی طرف سے الزام لگایا گیا تھا کہ امریکی صحافی کو کتائب حزب اللہ سے وابستہ لوگوں نے اغوا کیا ہے۔ خیال رہے اس گروپ کو امریکہ نے بلیک لسٹ کر رکھا ہے۔ تاہم امریکی دفتر خارجہ نے صحافی خاتون کا نام نہیں لیا ہے۔ البتہ میڈیا ایڈووکیسی گروپوں میں سے ایک نے ایک خبری ادارے میں اس صحافی کا نام ظاہر کیا ہے۔
بغداد میں ایک عرصے سے اغوا اور گرفتاریوں کے اس طرح کے واقعات کافی زیادہ ہو رہے تھے۔ لیکن حالیہ برسوں کے دوران میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کے باعث کم ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی روسی ماہر تعلیم الزبتھ ٹسرکوف کو بغداد میں 2023 کو حراست میں لینے کے بعد دو سال تک رہائی نہیں مل سکی تھی۔