اسرائیل کی جانب سے ایران میں جوہری مواد کی نگرانی کے لیے انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج کی خفیہ ایجنسی ایران کے شہر اصفہان اور نطنز میں زیرِ زمین یورینیم کی نگرانی کے لیے ''خاص انتباہی ماڈل'' تیار کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق فوج ایک ''ماڈل انتباہ'' جاری کرے گی، جو ایک خصوصی ورکنگ سیل ہوگا، جوفیصلہ سازوں کو ہر اس ایرانی کوشش پر خبردار کرے گا ،جب زیرِ زمین یورینیم نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ معلومات آج جمعرات کو فوجی ریڈیو نے دی ہیں۔

واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مشترکہ نگرانی

اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ اس مقصد کے لیے خفیہ ایجنسی کی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں گی اور بلاشبہ اس معاملے میں امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی کیا جائے گا، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مشترکہ نگرانی بھی ہوگی۔

یہ معلومات اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک جہتی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے ،جو گزشتہ بدھ سے شروع ہو کر دو ہفتوں تک برقرار رہے گی۔

یہ خبر پاکستان کی طرف سے اس وقت ظاہر کی گئی ،جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقررہ آخری وقت ختم ہونے سے پہلے کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وسیع پیمانے پر حملے کیے جائیں گے جو ''ایرانی تہذیب کو مکمل طور پر ختم کر دیں گے ''۔

اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کل جمعہ کو امریکہ اور ایران کے وفود کا استقبال کرے گا تاکہ وہ مذاکرات کریں اور 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جی ڈی وینس کریں گے، جن کے ساتھ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر شامل ہوں گے۔ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے صدر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں