ایران کے رہنماؤں نے لبنان میں تباہ کن اسرائیلی حملوں کے بعد فیصلہ کن جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف کا کہنا ہے کہ "جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور اس کا سخت جواب دیا جائے گا"۔
قاليباف نے “ایکس” پر ایک پوسٹ میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے ان بیانات کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے بدھ کی صبح کہا تھا کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔ ایرانی عہدے دار نے مزید لکھا کہ "لبنان، مزاحمتی محور کے دیگر تمام فریقین اور ایران کے اتحادی، جنگ بندی اور 10 نکاتی معاہدے کا اٹوٹ حصہ ہیں"۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے کھلے عام اور واضح طور پر لبنان کے معاملے پر زور دیا ہے، لہذا اب اس سے انکار کرنے یا پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیلی فضائی حملوں کو "اصولی جنگ بندی کی کھلم کھلا خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ "یہ دھوکہ دہی کی خطرناک علامت اور ممکنہ معاہدوں کی عدم پاسداری ہے"۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ان کارروائیوں کا تسلسل مذاکرات کو بے معنی بنا دے گا اور کہا کہ "ہمارے ہاتھ اب بھی ٹرگر پر ہیں، ایران اپنے لبنانی بہن بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا"۔
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 9, 2026
اسی دوران لبنانی صدر جوزف عون نے آج کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں اعلان کیا کہ حکام دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ لبنان بھی جنگ بندی کا حصہ بنے۔ انہوں نے کہا "ہم دنیا میں لبنان کے دوستوں سے رابطے کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمیں بھی ویسا ہی موقع دیا جائے جیسا امریکہ اور ایران کو جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے دیا گیا ہے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہم ایک ریاست ہیں اور صرف ریاست کو ہی مذاکرات کا حق ہے، ہم کسی اور کو اپنی طرف سے مذاکرات کی اجازت نہیں دیں گے"۔ اسی سلسلے میں لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اپنے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے لبنان کو جنگ بندی کے معاہدے میں شامل کرنے کی درخواست کی۔
Renewed aggression by the Zionist regime against Lebanon blatantly violates the initial ceasefire. Such actions signal deception and non-compliance, rendering negotiations meaningless. Our hands remain on the trigger. Iran will never forsake its Lebanese brothers and sisters. https://t.co/T3Wy3qBqcE
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) April 9, 2026
پاکستانی وزیراعظم نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے متوقع مذاکرات سے قبل لبنان پر مسلسل اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک علاقائی امن کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور اسی جذبے کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات منعقد کیے جا رہے ہیں۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بدھ کے روز اسرائیل نے جنگ کے آغاز کے بعد سے لبنان پر اب تک کے پُر تشدد ترین حملے کیے، جن میں لبنانی سول ڈیفنس کے مطابق 254 افراد ہلاک اور 1165 زخمی ہوئے۔ اسرائیلی حملے آج بھی جاری رہے، خاص طور پر جنوبی علاقوں میں۔ واضح رہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کی قیادت کرنے والے ملک پاکستان نے بدھ کی صبح اعلان کیا تھا کہ عارضی جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذ شامل ہیں، تاہم اسرائیل اور امریکہ نے بعد میں اس کی تردید کی۔اس سے اسلام آباد مذاکرات سے قبل اس جنگ بندی کے حوالے سے ابہام پیدا ہو گیا ہے۔
-
شام اور لبنان کے درمیان اہم ترین سرحدی گزرگاہ دوبارہ بحال، اسرائیلی خطرہ ٹل گیا
گذشتہ دنوں کام کی عارضی بندش کی وجہ بننے والے خطرات ختم ہونے کے بعد سرحدی گزرگاہ ...
مشرق وسطی -
امریکہ-ایران جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہونا چاہیے:یورپی یونین اور دیگر رہنماؤں کا مطالبہ
چین بھی جنگ بندی میں لبنان کی شمولیت کا خواہشمند ہے
بين الاقوامى -
''واشنگٹن نے شہباز شریف کا منشور دوبارہ دیکھا' ایک سرخی جس نے لبنان میں ہنگامہ کھڑا کر دیا
گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران لبنانی عوام اپنے ملک کی تقدیر کے بارے میں فکرمند رہے اور ...
بين الاقوامى