قالیباف کی لبنان میں اسرائیلی حملوں پر بھرپور جواب کی دھمکی... پاکستان کی جانب سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران کے رہنماؤں نے لبنان میں تباہ کن اسرائیلی حملوں کے بعد فیصلہ کن جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف کا کہنا ہے کہ "جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور اس کا سخت جواب دیا جائے گا"۔
قاليباف نے “ایکس” پر ایک پوسٹ میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے ان بیانات کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے بدھ کی صبح کہا تھا کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔ ایرانی عہدے دار نے مزید لکھا کہ "لبنان، مزاحمتی محور کے دیگر تمام فریقین اور ایران کے اتحادی، جنگ بندی اور 10 نکاتی معاہدے کا اٹوٹ حصہ ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے کھلے عام اور واضح طور پر لبنان کے معاملے پر زور دیا ہے، لہذا اب اس سے انکار کرنے یا پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیلی فضائی حملوں کو "اصولی جنگ بندی کی کھلم کھلا خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ "یہ دھوکہ دہی کی خطرناک علامت اور ممکنہ معاہدوں کی عدم پاسداری ہے"۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ان کارروائیوں کا تسلسل مذاکرات کو بے معنی بنا دے گا اور کہا کہ "ہمارے ہاتھ اب بھی ٹرگر پر ہیں، ایران اپنے لبنانی بہن بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا"۔

اسی دوران لبنانی صدر جوزف عون نے آج کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں اعلان کیا کہ حکام دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ لبنان بھی جنگ بندی کا حصہ بنے۔ انہوں نے کہا "ہم دنیا میں لبنان کے دوستوں سے رابطے کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمیں بھی ویسا ہی موقع دیا جائے جیسا امریکہ اور ایران کو جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے دیا گیا ہے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہم ایک ریاست ہیں اور صرف ریاست کو ہی مذاکرات کا حق ہے، ہم کسی اور کو اپنی طرف سے مذاکرات کی اجازت نہیں دیں گے"۔ اسی سلسلے میں لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اپنے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے لبنان کو جنگ بندی کے معاہدے میں شامل کرنے کی درخواست کی۔

پاکستانی وزیراعظم نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے متوقع مذاکرات سے قبل لبنان پر مسلسل اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک علاقائی امن کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور اسی جذبے کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات منعقد کیے جا رہے ہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بدھ کے روز اسرائیل نے جنگ کے آغاز کے بعد سے لبنان پر اب تک کے پُر تشدد ترین حملے کیے، جن میں لبنانی سول ڈیفنس کے مطابق 254 افراد ہلاک اور 1165 زخمی ہوئے۔ اسرائیلی حملے آج بھی جاری رہے، خاص طور پر جنوبی علاقوں میں۔ واضح رہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کی قیادت کرنے والے ملک پاکستان نے بدھ کی صبح اعلان کیا تھا کہ عارضی جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذ شامل ہیں، تاہم اسرائیل اور امریکہ نے بعد میں اس کی تردید کی۔اس سے اسلام آباد مذاکرات سے قبل اس جنگ بندی کے حوالے سے ابہام پیدا ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں