اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اور یہودی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور اپنے قبضے کو پکا کرنے کی غرض سے درجنوں نئی یہودی بستیوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔ اسرائیلی حکومت کا یہ فیصلہ جمعرات کے روز سامنے آیا ہے۔
'واچ ڈاگ ادارے' نے کہا ہے اسرائیلی فوج اور یہودی مغربی کنارے میں اپنی کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ جمعرات کے روز اسرائیل کا یہ نیا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔
خیال رہے نیتن یاہو کی حکومت نے ان نئی 34 یہودی بستیوں کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔ جن میں متعدد آؤٹ پوسٹس شامل ہیں جو دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں ہیں۔
واچ ڈاگ کے طور پر کام کرنے والی این جی او 'پیس ناؤ' (اب امن) کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیلی کابینہ نے یکم اپریل کو کیا تھا جو جمعرات کے روز سامنے آیا ہے۔ کیونکہ اسرائیلی فوج نے سخت سینسرشپ عائد کر رکھی ہے۔
فلسطین کے صدارتی دفتر کی طرف سے یہودی بستیوں کے اس نئے منصوبے کی بھی مذمت کی گئی ہے اور اسے کہا گیا ہے یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ البتہ نیتن یاہو کے دفتر نے ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے نمائندہ ادارے 'دی یشا کونسل' نے بھی اس بارے میں فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا اور نہ ہی اس بارے میں تبصرہ کیا ہے کہ بدھ کے روز بھی فلسطینی شہری یہودی آبادکاروں کے حملوں میں قتل کیے گئے۔
مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے قیام کو اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے پچھلے سال غیر قانونی قرار دیا تھا۔ ان یہودی بستیوں میں اسرائیل نے مختلف ملکوں سے 5 لاکھ یہودی کو لا کر آباد کر رکھا ہے جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینیں کی آبادی 30 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
نیتن یاہو حکومت کی کوشش ہے کہ مغربی کنارے میں آبادی کے تناسب کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھال سکے اور فلسطینیوں کو یہاں سے نکال باہر کرے۔
بدھ کے روز ایک 28 سالہ فلسطینی نوجوان یہودی آبدکاروں کے ہاتھوں سے ہلاک ہوا۔ یہ واقعہ طوباس کے نزدیک مغربی کنارے میں پیش آیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس فلسطینی کو ایک چھٹی پر آئے ہوئے اسرائیلی فوجی نے گولی مار دی کیونکہ یہ فلسطینی پتھراؤ کر رہے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ چھٹی پر آیا ہوا اسرائیلی فوجی یہودی آباد کار ہے۔
حسام عبداللطیف ایک 65 سالہ فلسطینی کسان ہیں انہوں نے اس واقعے کے بعد کہا یہ چاہتے ہیں کہ ہم یہاں سے چلے جائیں۔ ان کے بقول 12 یہودی آبادکاروں نے بدھ کی رات کو دیر گئے حملہ کیا۔ اگر میں اس وقت وہاں سے بھاگنے میں کامیاب نہیں ہوتا تو میں بھی اب تک قتل ہو چکا ہوتا۔
وحدان 4 بچوں کے والد ہیں اور اپنے بچوں کی ضروریات کسان کاری سے پوری کرتے ہیں مگر ایک فلسطینی ہونے کے ناطے وہ بھی اس خوف کا شکار ہیں کہ یہودی آبادکار انہیں کسی بھی وقت نشانہ بنا سکتے ہیں۔
یہودی آبادکاروں نے اس مہینے کے شروع سے لے کر اب تک کم از کم 6 فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ 28 فروری کے بعد مسلسل یہودی آبادکاروں کے حملے فلسطینیوں کے خلاف شدت اختیار کیے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہودی آبادکاروں کے یہ حملے فلسطینیوں کی جان، مال اور محفوظ زندگی کے لیے خطرہ ہیں۔ اس لیے ان حملوں کی وجہ سے کم از کم 700 فلسطینیوں نے 2025 کے شروع سے لے کر فروری 2026 تک یہاں سے نقل مکانی کر لی ہے کیونکہ یہودی آبادکار پورے مغربی کنارے میں فلسطییوں کو ٹارگٹ کر کے حملے کر رہے ہیں۔