ریڈ کراس اور ترک ہلالِ احمر نے جمعہ کے روز ترکی سے ایک ہنگامی انسانی امداد کا قافلہ ایران کے لیے روانہ کیا جیسا کہ امدادی تنظیم نے ملک میں "مایوس کن" انسانی صورتِ حال سے خبردار کیا ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے ترجمان سکاٹ کریگ نے انقرہ کے مضافات سے قافلے کی روانگی سے کچھ دیر قبل اے ایف پی کو بتایا، "ایران میں انسانی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔"
امدادی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی متزلزل نظر آ رہی ہے اور فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کا احترام کرنے میں ناکامی کا الزام لگا رہے ہیں۔
اس تنازعے میں گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران 2000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کریگ نے کہا کہ "ایران میں انسانی صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہے۔ حالات کی تبدیلی کے مطابق ضروریات بدلیں گی۔ لیکن یہ بہت طویل عرصے تک نازک رہیں گی۔ ملک میں صحت کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے وسیع نقصان سے بحران مزید بڑھ گیا ہے جس سے آبادی پر نفسیاتی اور ذہنی صحت کے حوالے سے شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
اس امدادی قافلے میں 200 کے قریب ٹراما کٹس شامل ہیں جن میں بم دھماکے کے زخمیوں کے لیے ہنگامی طبی سامان موجود ہے۔
ترک ہلالِ احمر نے 48 ٹن امداد کے چار ٹرک بھی بھیجے ہیں جن میں بے گھر خاندانوں کے لیے ہنگامی پناہ گاہیں، حفظانِ صحت کی کٹس اور ابتدائی طبی امداد کا سامان شامل ہے۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے جائے وقوعہ پر مشاہدہ کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں پر "ایران کے برادر لوگوں کے لیے ترک عوام کی طرف سے انسانی امداد" کے الفاظ تحریر ہیں۔
کریگ نے کہا کہ یہ "تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے ایران میں انسانی امداد کی پہلی ترسیل میں سے ایک ہے" اور یہ کہ عالمی رسد خاص طور پر سمندری راستوں میں رکاوٹوں نے خریداری اور نقل و حمل کی کوششیں پیچیدہ کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا، "انہیں ترکی سے زمینی راستے سے بھیجنا ملک میں امداد منتقلی کو ممکن بنانے کا ایک بہت ہی جدید طریقہ ہے۔"
ترک ہلالِ احمر کی صدر فاطمہ میرک یلماز کے مطابق جنگ سے ایران کے 90 ملین میں سے تقریباً 3.6 فیصد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 62,000 گھر اور 20,000 سے زیادہ کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی ہلالِ احمر کو بھی "شدید" نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے 17 مراکز اور تقریباً 100 ایمبولینسز کو نقصان پہنچا۔
ترک ہلالِ احمر کے اہلکار الپر کوچوک نے اے ایف پی کو بتایا، قافلے کے 48 گھنٹوں میں تہران پہنچنے کی توقع ہے جس کے بعد بے گھر افراد کی میزبانی کرنے والے مراکز میں سامان تقسیم کیا جائے گا۔