پاکستان میں سہ فریقی مذاکرات "براہِ راست اور جاری" ہیں:وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ، ایران اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات "براہِ راست اور آمنے سامنے" جاری ہیں۔ یہ ان مذاکرات کے برعکس ہیں جو گذشتہ مہینوں کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ طور پر ہوتے رہے ہیں، جن میں ثالث دو الگ الگ کمروں میں بیٹھے وفود کے درمیان پیغامات پہنچاتے تھے۔

عہدیدار نے بتایا کہ متعلقہ شعبوں کے امریکی ماہرین کی مکمل ٹیمیں پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ہیں، جبکہ واشنگٹن سے مزید ماہرین اسلام آباد میں موجود مذاکراتی ٹیم کو معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ترامب کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں، تاہم انہوں نے ایران اور پاکستان کی جانب سے شرکاء کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ایرانی مذاکرات کاروں کے قیام میں توسیع کی شرط

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک وقفے کے بعد پاکستان میں براہِ راست مذاکرات کی بحالی کی اطلاع دی ہے۔

تاہم ایجنسی "فارس" نے ذکر کیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کاروں کے اسلام آباد میں قیام میں توسیع کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایجنسی نے مزید کہا کہ "مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں ہی ایرانی وفد کے پاکستان میں قیام میں توسیع کی جائے گی"۔

ایک پاکستانی ذریعے نے واضح کیا کہ براہِ راست مذاکرات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور ایرانی سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قاليباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کے درمیان ہوئے۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق ایک اور پاکستانی عہدیدار نے اسلام آباد میں وفود کے درمیان دوستانہ ماحول کا انکشاف کرتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا تذکرہ کیا ہے۔

بعد ازاں ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں جانب سے ماہرین کی فنی ٹیموں نے تنازعےکے حل طلب پہلوؤں کی تفصیلات پر تبادلہ خیال شروع کر دیا ہے۔

رپورٹس میں مذاکرات کے ایک اضافی دن تک طویل ہونے کے امکان کا بھی اشارہ دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ مذاکرات جن کے کل اتوار تک جاری رہنے کی توقع ہے، ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان 28 فروری سنہ 2026ء کو چھڑنے والی جنگ کے 6 ہفتوں بعد ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل پاکستانی وزیراعظم نے آٹھ اپریل کی صبح دو ہفتوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ یہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان بار بار کی دھمکیوں کے سائے میں ہو رہے ہیں کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔

ادھر ایرانی سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قاليباف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے کوئی "حقیقی معاہدہ" پیش کیا اور ان کے ملک کو اس کے "حقوق" دیے تو ایران معاہدے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کا ملک نیک نیتی رکھتا ہے لیکن وہ "امریکہ پر بھروسہ نہیں کرتا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں