فرانسیسی صدر میکرون کا امریکہ-ایران جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ

فرانس اور برطانیہ کا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایک دفاعی مشن پر بھی کام جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے منگل کو کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان پر امریکہ-ایران جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے جو تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

فرانسیسی صدر نے پیر کو دونوں رہنماؤں سے بات کرنے کے بعد ایکس پر لکھا، "میں نے اسلام آباد میں معطل شدہ مذاکرات کی بحالی، غلط فہمیاں دور کرنے اور مزید کشیدگی سے بچنے پر زور دیا۔"

انہوں نے کہا کہ "یہ بات خاص طور پر ضروری ہے کہ تمام فریقین جنگ بندی کا سختی سے احترام کریں اور اس میں لبنان بھی شامل ہو"۔

"یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر بغیر کسی پابندی یا ٹول کے جلد از جلد دوبارہ کھول دیا جائے،" انہوں نے تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم تجارتی راستے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا جہاں تنازعہ کے آغاز سے جہازرانی تعطل کا شکار ہے۔

میکرون کے دفتر نے منگل کے اوائل میں کہا کہ فرانس اور برطانیہ جمعے کو ان ممالک کی ایک ویڈیو کانفرنس کی مشترکہ میزبانی کریں گے جو آبنائے کو محفوظ بنانے کی غرض سے ایک "خالص دفاعی مشن" میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ٹرمپ نے پیر سے آبنائے کے ساتھ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا۔

انہوں نے ایسا اس وقت کیا ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک وفد نے پاکستان میں ایرانی حکام سے ملاقات کی لیکن جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ کیے بغیر مذاکرات ختم ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں