امریکہ میں تعینات اسرائیلی سفیر يحيئيل ليٹر نے واشنگٹن میں لبنان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو بہترین قرار دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سنہ 1993ء کے بعد یہ اپنی نوعیت کے پہلے براہ راست مذاکرات ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے يحيئيل ليتر نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا کہ ہم اور لبنان ایک ہی پیج پر کھڑے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم لبنان کے ساتھ اس بات پر متفق ہیں کہ اسے حزب اللہ سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے۔ ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ ایران اور حزب اللہ کے کمزور ہونے کے بعد لبنان کے پاس اس وقت ایک بہترین موقع موجود ہے۔
اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ لبنان کے ساتھ مذاکرات حزب اللہ پر ایک فیصلہ کن فتح ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے لبنانی وفد پر واضح کر دیا ہے کہ اسرائیلیوں کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سفیر نے بتایا کہ لبنانی حکومت نے مذاکرات کی مخالفت پر مبنی حزب اللہ کے موقف پر کوئی کان نہیں دھرا۔ ان کے مطابق بات چیت کے دوران یہ واضح کیا گیا کہ لبنان اب مزید حزب اللہ کے زیر قبضہ رہنے کا خواہش مند نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل سکیورٹی اور شہری دونوں سطحوں پر لبنان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
تاریخی موقع
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب منگل کو واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ سنہ 1993ء کے بعد ہونے والے ان پہلے مذاکرات کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک تاریخی موقع قرار دیا ہے۔
اس اہم اجلاس میں امریکہ میں متعین اسرائیلی سفیر يحيئيل ليٹر اور واشنگٹن میں لبنانی سفیرہ ندی حمادہ معوض شریک ہوئیں، جبکہ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور لبنان میں امریکی سفیر میشل عیسیٰ بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے گذشتہ دنوں ان مذاکرات کو مسترد کر دیا تھا۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے اس اجلاس کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
جب سے حزب اللہ نے لبنان کو جنگ میں دھکیلا ہے، اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔