سعودی ولی عہد کی دانشمندانہ اور متوازن کوششیں خطے کے استحکام میں معاون: لبنانی صدر

سعودی عرب طائف معاہدے کا ضامن ہونے کے ناطے لبنانیوں، خطے اور دنیا کے اعتماد کا مرکز ہے: جوزف عون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی دانشمندانہ اور متوازن کوششوں نے ایسا ماحول فراہم کردیا ہے جو خطے میں استحکام کی حمایت کر رہا ہے۔

جوزف عون نے یہ بھی کہا کہ سعودی ولی عہد کی کوششیں لائقِ تحسین اور باعثِ فخر ہیں اور ہمیں امید ہے کہ لبنان ان کوششوں کا حصہ بنے گا۔ لبنانی صدر نے کہا کہ سعودی عرب طائف معاہدے کا سرپرست ملک ہونے کی حیثیت سے لبنانیوں، خطے اور دنیا کے لیے قابلِ اعتماد ہے۔

ریاض اور بیروت طائف معاہدے پر مکمل عمل درآمد، متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کی تعمیل، تمام لبنانی علاقوں پر ریاست کی خودمختاری کی بحالی اور اسلحہ کو صرف ریاست کے قبضے میں رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ساتھ ہی لبنانی فوج کے قومی کردار کی اہمیت، اس کی حمایت کی ضرورت اور تمام لبنانی علاقوں سے اسرائیل کے انخلا کی ضرورت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے مطابق سعودی عرب لبنان کے مستقبل کو امید کی نظر سے دیکھتا ہے اور لبنان اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ امید بھی وابستہ ہے کہ لبنانی قیادت اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے متحد ہو کر لبنان کی سلامتی اور خودمختاری کو مضبوط بنانے اور اس کے اداروں اور کامیابیوں کے تحفظ کے لیے سنجیدگی سے کام کرے گی۔

اسرائیل نے گزشتہ بدھ سے بیروت پر فضائی حملے کیے ہیں۔ وہ لبنانی سرزمین کے اندر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں دارالحکومت بیروت سمیت لبنان کے مختلف حصوں میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ حزب اللہ گروپ کے خلاف فوجی مہم امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے میں شامل نہیں تھی۔

یاد رہے لبنان اور اسرائیل نے امریکی ثالثی میں پہلی براہِ راست مذاکراتی ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات دونوں فریقوں کے درمیان آخری براہِ راست مذاکرات کے 43 سال بعد ہوئی ہے۔ 43 برس قبل کی ملاقات کے نتیجے میں 17 مئی 1983 کا معاہدہ طے پایا تھا۔ حالیہ اجلاس میں امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یحیئل لیٹر اور واشنگٹن میں لبنان کی سفیر ندی حمادة معوض نے شرکت کی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور لبنان میں امریکی سفیر مشیل عیسیٰ بھی موجود تھے۔

اجلاس کے نتیجے میں ایک مشترکہ امریکی-لبنانی-اسرائیلی بیان سامنے آیا جس میں بتایا گیا کہ حال ہی میں ہونے والی بات چیت میں دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے آغاز کے اقدامات پر نتیجہ خیز بحث ہوئی تاکہ ایک ایسے معاہدے تک پہنچا جا سکے جو زیرِ التوا مسائل کو حل کرے اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرے۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اسلحہ کو صرف ریاست کے ہاتھ میں رکھنے کے لبنانی حکومت کے منصوبوں کی حمایت کرتا ہے۔ ساتھ ہی لبنان میں ایرانی اثر و رسوخ کے خاتمے کی بھی حمایت کرتا ہے ۔ بیروت اور تل ابیب کے درمیان مستقبل میں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ امریکی سرپرستی میں ہونا چاہیے نہ کہ الگ الگ راستوں کے ذریعے۔

یہ بھی کہا گیا کہ یہ مذاکرات، شروع ہونے کی صورت میں، لبنان کے لیے تعمیرِ نو کی امداد حاصل کرنے کی راہ کھول سکتے ہیں اور ملک میں جاری بحران کے سائے میں معاشی بحالی کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ مزید برآں کینیڈا اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں نے لبنان میں لڑائی کے خاتمے کا فوری مطالبہ کردیا اورانسانی صورتحال کی ابتری اور نقل مکانی کے بحران کی شدت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان، جس پر آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، کولمبیا، انڈونیشیا، جاپان، اردن، سیرا لیون، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے دستخط کیے تھے، میں کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان ملکوں نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کے پس منظر میں لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے سپاہیوں کی اموات کی بھی مذمت کی۔ مختلف ملکوں کا یہ مشترکہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ میں لبنان کی سفیر ندی حمادة معوض نے واشنگٹن میں اسرائیلی حکام کے ساتھ منگل کو ہونے والے ایک اچھے ابتدائی اجلاس کے دوران جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں