مقبوضہ مغربی کنارا:سکول جانے والے فلسطینی بچوں پریہودی آبادکاروں کا آنسو گیس سے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملے نئی بات نہیں ہیں۔ بلکہ آئے روز کا معمول ہیں لیکن اپنی نوعیت کا یہ حملہ یہودی آبادکاروں کی فلسطینی بچوں کے بارے میں انتہائی ظالمانہ پرتشدد سوچ کا آئینہ دار ہے۔

حملے میں یہودی آبادکاروں نے سکول جانے والے فلسطینی بچوں کو سکول جاتے ہوئے روک دیا اور ان پر آنسو گیس کے شیل پھینکے۔ یہ حجر اور راشد ھثلین پہلے بھی ام الخیر کے مضافات میں سکول جاتے ہیں۔ لیکن اس ہفتے جب کلاسز دوبارہ شروع ہوئیں تو ان بہن بھائیوں کو یہودی آبادکاروں نے گاؤں کے مرکز میں روک دیا۔ جہاں پر اسرائیل اور ایران کی جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی خاردار تاریں لگا دی گئی تھیں۔ تاہم اس ہفتے سکول میں کلاسز کا از سر نو آغاز ہوگیا۔

سکول کے بچوں کو سکول جانے سے روکنے پر مبنی ایک ویڈیو بھی جاری کی۔ خبر رساں ادارے کے مطابق خاردار تار کے بچھانے کا یہودی آبادکاروں کا یہ عمل فلسطینیوں کی زمین پر قبضے کے لیے جاری کوششوں کا تازہ ترین واقعہ ہے۔

یہودی آبادکار مغربی کنارے کے مختلف حصوں پر اپنا کنٹرول بڑھانے کے لیے غنڈہ گردی اور دہشت گردی کی مختلف وارداتیں کرتے رہتے ہیں جن میں فلسطینیوں کے گھروں اور گاڑیوں کو جلانا، فلسطینیوں پو فائرنگ کرنا اور ان کو قتل کرنا تک شامل ہے۔

مغربی کنارے کے ان فلسطینیوں پر بیتنے والے مظالم کے بارے میں 'آسکر' انعام یافتہ دستاویزی فلم 'نو ادر لینڈ' نے یہودی آبادکاروں کی اسی دہشت گردی کو اجاگر کیا تھا۔

گاؤں کی کونسل کے سربراہ خلیل ھثلین نے کہا کہ یہودی آبادکار ایران کے خلاف جاری اسرائیلی جنگ کو مغربی کنارے میں اپنا قبضہ مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف جو چاہیں کارروائیاں کر سکتے ہیں جیسا کہ انہوں نے فلسطینی بچوں کو سکول جانے سے روکنے کے لیے کارروائی کی۔

حجر کے بھائی راشد ھثلین اور ان کے کلاس فیلوز نے سکول جانے کے لیے پیر اور منگل کے روز ایک ایسی جگہ مجبورا رک کر انتظار کیا کہ انہیں سکول کی طرف جانے دیا جائے جہاں اسرائیلی جھنڈے لگے ہوئے تھے اور خاردار تار بچھی ہوئی تھی۔

بچوں اور ان کے والدین کا کہنا تھا انہیں سکول جانے کی اجازت دی جائے۔ تاہم کچھ ہی دیر میں ان بچوں پر یہودی آبادکاروں نے آنسو گیس کے شیل پھینکنا شروع کیے اور ایک بغیر شناخت کے سفید رنگ کے ٹینک سے ایک ایسا شخص برآمد ہوا جس کے ہاتھ میں گرینیڈز تھے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے فسادات روکنے کے لیے طریقہ اختیار کیا تاکہ یہودی آبادکاری کے نزدیک ام الخیر نامی گاؤں میں اس جھگڑے پر قابو پایا جا سکے۔

مقامی کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ عرب بدو اور مقامی لوگ اس راستے کو کئی دہائیوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ جو یہودی بستی کے نزدیک سے گزرتا ہے۔ لیکن یہودی آبادکاروں نے سکول جانے والے بچوں کو بھی اس راستے سے روکنا شروع کر دیا ہے۔

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج یہودی آبادکاروں کو ایسا کرنے سے بظاہر منع کرتی ہے۔ لیکن عملی نتیجہ فلسطینیوں کے حق میں نہیں ہوتا۔

خیال رہے بین الاقوامی برادری فلسطینی علاقوں میں قائم ان یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالتیں بھی ان یہودی بستویں کے بارے میں واضح طور پر یہ مؤقف رکھتی ہیں کہ یہ ناجائز ہیں لیکن اس کے باوجود اسرائیلی حکومت نہ صرف ان بستیوں میں اضافہ کرتی جا رہی ہیں بلکہ ان کے رہنے والے یہودی آبادکار مقامی فلسطینیوں کے لیے دہشت گردی کا ایک قابل مذمت حوالہ بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں