امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بدھ تک ایران کے ساتھ طویل المدتی معاہدہ طے نہ پایا تو وہ جنگ بندی ختم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے ایئر فورس ون پر فینکس (ایریزونا) سے واشنگٹن واپسی کے دوران کہا کہ ''میں شاید جنگ بندی میں توسیع نہ کروں، لیکن بحری ناکہ بندی جاری رہے گی اور بدقسمتی سے ہمیں دوبارہ بمباری شروع کرنا پڑ سکتی ہے۔''
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے حوالے سے اچھی خبریں موصول ہوئی ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔
ان کے مطابق: ہمیں ابھی 20 منٹ پہلے اچھی خبر ملی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے معاملے پر صورتحال بہتر دکھائی دے رہی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے اور ان میں لبنان کا معاملہ بھی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی معاہدے پر دستخط کے بعد ختم ہو جائے گی۔
بعد ازاں ایک تقریب سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ زیرِ غور معاہدے میں کسی قسم کی مالی ادائیگی شامل نہیں ہوگی۔
ان کے مطابق ایران سے افزودہ یورینیم کو امریکہ منتقل کیا جا سکتا ہے، امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات سے مواد نکالنے میں مدد فراہم کرے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جلد معاہدہ طے پا سکتا ہے، ممکن ہے دونوں فریقوں کی ملاقاتیں بھی اسی ہفتے کے آغاز میں ہوں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں، کسی حتمی معاہدے پر ابھی اتفاق نہیں ہوا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق نئی بات چیت کی تیاری جاری ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی شیڈول طے نہیں ہوا۔
-
امریکہ کے ساتھ اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں: سینئر ایرانی عہدے دار
عہدے نے روئٹرز کو اس بات کی تصدیق کی کہ "ایٹمی امور کی تفصیلات پر تہران اور ...
مشرق وسطی -
امریکہ اور ایران کے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 صفحاتی منصوبے پر مذاکرات
پاکستانی ثالثی اور علاقائی تعاون سے یورینیم کے بدلے ایران کو رقم ادا کرنے پر مشتمل ...
بين الاقوامى -
ایران کا ہرمز کو کھولنے کا اعلان، معاہدے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی: ٹرمپ
ایران افزدوہ یورینیم حوالے کرنے پر راضی ہوگیا، ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں: امریکی ...
مشرق وسطی