امریکہ : پرتعیش زندگی گذارنےوالی ایرانی خاتون تہران کےلیےاسلحےکی تجارت کےالزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی حکام نے لاس اینجلس کے ہوائی اڈے سے ایک ایرانی کاروباری خاتون کو گرفتار کیا ہے جن کے پاس امریکہ کا مستقل رہائشی کارڈ (گرین کارڈ) موجود ہے۔ ان پر تہران کے حق میں اسلحے کی غیر قانونی تجارت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

وسطی کیلیفورنیا کے امریکی پراسیکیوٹر کے دفتر نے اتوار کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اعلان کیا کہ 44 سالہ شمیم مافی کو ہفتے کی شام حراست میں لیا گیا۔ نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان پر ایرانی ڈرونز، بموں اور زندہ گولیوں کی خرید و فروخت میں سہولت کاری کا الزام ہے جو سوڈان بھیجی جانی تھیں۔

عدالتی دستاویزات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شمیم مافی ایرانی وزارت انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے ساتھ قریبی رابطے میں رہ کر اسلحے کے سودے کر رہی تھیں۔ ایرانی انٹیلی جنس نے انہیں امریکہ میں ایک کمپنی کھولنے کے لیے ہدایات اور فنڈز فراہم کیے تھے جسے وہ اپنی سرگرمیوں کے لیے بطور ڈھال استعمال کر رہی تھیں۔

شمیم مافی نے سنہ 2013ء میں ایران چھوڑا اور اوباما انتظامیہ کے دور میں سنہ 2016ء میں امریکہ کی مستقل رہائش حاصل کی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے سنہ 2025ء تک اسلحے کے سودوں میں بطور ثالث ایک کمپنی کا استعمال کیا۔

ان سودوں میں ایرانی وزارت دفاع سے حاصل کردہ مہاجر-6 ساخت کے حملہ آور ڈرونز کا 70 ملین ڈالر سے زائد مالیت کا معاہدہ بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ ان سودوں میں ڈرونز کی منتقلی اور بموں کے 55 ہزار ڈیٹونیٹرز کی فراہمی بھی شامل تھی جو سوڈانی وزارت دفاع کو دیے جانے تھے جبکہ سوڈان سنہ 2023ء سے خونی خانہ جنگی کا شکار ہے۔

تہران انٹیلی جنس کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے

عدالتی دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیلی فونک رابطوں کی نگرانی کے دوران پتہ چلا کہ شمیم مافی دسمبر سنہ 2022ء سے جون سنہ 2025ء کے دوران ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھیں۔

ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے سکیورٹی حکام کی نظروں سے بچنے اور امریکی پابندیوں کے نظام کو ناکام بنانے کے لیے ترکیہ اور دیگر ممالک کے راستے سمگلنگ اور سودوں کے لیے استعمال کیے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ایرانی خاتون کے پاس اس قدر بڑے اور خطرناک پیمانے پر اسلحے کے سودوں کی نگرانی یا انتظام کرنے کا کوئی قانونی لائسنس موجود نہیں تھا۔

پرتعیش زندگی اور گاڑیاں

دوسری جانب شمیم مافی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ریاست کیلیفورنیا میں انتہائی پرتعیش زندگی گزار رہی تھیں جہاں مشہور شہر لاس اینجلس کے علاقے ووڈ لینڈ ہلز میں ان کا ایک بڑا گھر موجود ہے۔

وہ دنیا بھر کے سفر کے دوران اپنی پرتعیش تصاویر بھی پوسٹ کرتی تھیں جن میں سے ایک تصویر میں وہ تقریباً ایک لاکھ امریکی ڈالر مالیت کی مرسڈیز بینز روڈسٹر کار کے سامنے پوز دیتے ہوئے نظر آتی ہیں۔

شمیم مافی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ انہیں ایرانی وزارت انٹیلی جنس اور سکیورٹی کی جانب سے امریکہ کے اندر تہران کے لیے کسی بھی قسم کی سرگرمی کی کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی تھی۔

تاہم تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا کہ تہران نے سنہ 2020ء میں ان کے والد سے وراثت میں ملنے والی جائیداد ضبط کر لی تھی اور بعد ازاں تہران کے انٹیلی جنس ادارے نے انہیں امریکہ میں ایک کمپنی کھولنے کی ہدایت کی تاکہ وہ ایرانی حکومت سے وہ جائیداد دوبارہ خرید سکیں، جیسا کہ عدالتی ریکارڈ میں درج ہے۔

ملزمہ کو آج پیر کے روز وسطی لاس اینجلس کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں شمیم مافی کو زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں