اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے منگل کے روز کہا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے عسکری اور سفارتی دونوں ذرائع استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یومِ یادگار کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کاٹز نے کہا کہ لبنان میں جاری مہم کا اسٹریٹجک ہدف حزب اللہ کو ہتھیاروں سے محروم کرنا ہے، جس کے لیے فوجی کارروائیوں اور سفارتی کوششوں کا مشترکہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس سے قبل بھی اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اسرائیل کا بنیادی مقصد ہے، چاہے اس کے لیے عسکری یا سیاسی راستہ اختیار کرنا پڑے۔
گزشتہ جمعہ کو اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے اب ایک مضبوط سیاسی رفتار بھی پیدا ہو چکی ہے، جس میں امریکی صدر کی براہِ راست شمولیت اور اس ہدف کے لیے دباؤ ڈالنا شامل ہے، خاص طور پر لبنانی حکومت پر۔
کاٹز نے مزید کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کے باعث فوجی کارروائیاں وقتی طور پر معطل ہیں، تاہم اسرائیلی فوج ان تمام علاقوں پر اپنی گرفت برقرار رکھے گی، جن پر اس نے قبضہ کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لبنان کے اندر زمینی کارروائیوں کے دوران حزب اللہ کو نشانہ بنانے میں کئی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جن میں 1700 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنا شامل ہے، جو ان کے بقول 2006 کی لبنان جنگ کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ مشن ابھی مکمل نہیں ہوا۔یہ بیان لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے پانچویں دن سامنے آیا ہے، جب ایک طرف امریکی سرپرستی میں دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں، تو دوسری جانب جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں اسرائیلی حملے، گھروں کی تباہی اور شہریوں کی واپسی میں رکاوٹیں بدستور برقرار ہیں۔