شاہ عبدالعزیز رائل ریزرو کے 6 لاکھ 14 ہزار ہیکٹر رقبے کی بحالی مکمل:سعودی عرب
قدرتی وسائل سے مالا مال اس محمیہ میں 300 سے زائد جانور موجود ہیں
شاہ عبدالعزیز رائل ریزرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ریزرو کے 6 لاکھ 14 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ یہ کامیابی نباتاتی غطاء کی بحالی کے حوالے سے پہلے 10 لاکھ ہیکٹر کے قومی ہدف کی تکمیل میں 60 فیصد سے زائد کا حصہ ڈالتی ہے، جو ویژن 2030 کے تحت سنہ 2030 تک مجموعی طور پر 25 لاکھ ہیکٹر رقبے کی بحالی کے ہدف کا حصہ ہے۔
شاہ عبدالعزیز رائل ریزرو کا قیام سنہ 2018ء میں فطرت اور جنگلی حیات کے تحفظ، ان کی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے حصول کے مقصد سے عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ محمیہ دارالحکومت ریاض کے شمال میں تقریباً 28 ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی حدود میں روضہ الخفس، التنہاہ، نورہ، سطح مرتفع صمان کا ایک حصہ اور صحرائے دہناء شامل ہیں، جو کہ تاریخی ورثے کے حامل علاقے ہیں۔
یہ علاقہ قدرتی مقومات سے بھرپور ہے جہاں 300 سے زائد مختلف اقسام کے جانوروں کے ساتھ ساتھ پودے اور خردبینی اجسام ایک متنوع جغرافیائی ماحول میں باہم رہتے ہیں۔ نباتات کا تحفظ، اس میں اضافے اور خطرے سے دوچار یا معدوم ہونے والی مقامی انواع کی حیاتیاتی تنوع کو بحال کرنے کے لیے یہاں شکار، کیمپنگ، لکڑیاں کاٹنے اور بے جا گلہ بانی پر پابندی عائد ہے۔
اس حوالے سے شاہ عبدالعزیز رائل ریزرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر ماہر القثمی نے تصدیق کی ہے کہ بحال شدہ رقبہ 6 لاکھ 14 ہزار 312 اعشاریہ 92 ہیکٹر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ مملکت کی سطح پر پہلے 10 لاکھ ہیکٹر رقبے کی بحالی کے قومی کارنامے کا 60 فیصد سے زائد حصہ ہے، جو کہ انتظامی منصوبوں کی افادیت اور "گرین سعودی عرب" اقدام اور وژن 2030 کے اہداف کے مطابق زمینی سطح پر نمایاں اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت کا عکاس ہے۔
انجینئر ماہر القثمی نے واضح کیا کہ اتھارٹی ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے جو نہ صرف زمین کی بحالی تک محدود ہے بلکہ اس میں مٹی کے معیار کو بہتر بنانا، ماحولیاتی نظام کا استحکام اور جنگلی حیات کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی بھی شامل ہے، تاکہ نباتاتی غطاء کی کارکردگی کو بڑھایا جا سکے اور طویل مدتی قدرتی وسائل کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے نتیجے میں محمیہ کے نباتاتی غطاء میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جس سے مقامی پودوں کی 50 سے زائد اقسام کی نشوونما کو فروغ ملا ہے۔ یہ پودے صحرائی حالات کے مطابق ڈھلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور مٹی کو جمانے اور اس کے کٹاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اہم اقسام میں غضا، رمث، مرخ، طرف، حاذ، شنان اور قیصوم شامل ہیں، جو ماحولیاتی نظام کی دوبارہ تعمیر، زمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافے اور اس کے قدرتی استحکام کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔