تہران نے 'زہر کا پیالہ' پینا شروع کر دیا، بیجنگ معاہدہ ختم ہو چکا:عبدالرحمن الراشد

ریاض اور اسلام آباد کے درمیان دفاعی معاہدے کو 'ماہرانہ چال' قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

العربیہ نیٹ ورک کے پلیٹ فارم 'مزیج' پر رفیقِ کار ماجد ابراہیم کی جانب سے پیش کیے جانے والے پروگرام 'الکلام خلیجی' کی پہلی قسط میں معروف سعودی دانشور اور صحافی عبدالرحمن الراشد نے ایرانی نظام کے 'خمینی ورژن' کے مستقبل کی ایک تاریک تصویر کشی کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران نے اب 'زہر کا پیالہ' پینا شروع کر دیا ہے اور علاقائی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کے اوزار ختم جبکہ بیرونی بازو تباہ ہو رہے ہیں۔

عبدالرحمن الراشد نے 'الکلام خلیجی' پوڈ کاسٹ میں ماجد ابراہیم کے ساتھ تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ سنہ 1979ء میں شروع ہونے والا ایرانی منصوبہ بین الاقوامی دباؤ، نسل در نسل تبدیلیوں اور اندرونی معاملات کی وجہ سے اب ایک بند گلی میں پہنچ چکا ہے۔

الراشد نے ایرانی صورتحال کا جامع تجزیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ علاقائی سہولت کاروں کو لگنے والے کاری ضربوں کے بعد اب ایرانی نظام کے پاس وہ 'طویل بازو' نہیں رہے جن کے ذریعے وہ پہلے حملے کیا کرتا تھا۔ اس صورتحال نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی اس کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا ہے۔

الراشد کا کہنا تھا کہ "اگر پالیسی وہی رہتی تب بھی ایران کے اوزار اب بدل چکے اور ٹوٹ چکے ہیں۔ نظام اب ایسی پوزیشن میں ہے جہاں وہ پرامن راستے تلاش کرنے پر مجبور ہے، یہی وجہ ہے کہ حالیہ مذاکراتی عمل میں تہران کی جانب سے اچانک لچک نظر آ رہی ہے"۔

اسی تناظر میں عبدالرحمن الراشد نے ایران کے اندرونی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نظام کا 'خمینی ورژن' عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایرانیوں کی تیسری نسل جو کل آبادی کا تقریباً 75 فیصد ہے انقلاب کے نظریات سے مکمل طور پر کٹ چکی ہے اور شدید معاشی و اقتصادی بحرانوں کا شکار ہے جس نے نظام کو خود کو نئے سرے سے ڈھالنے کے قابل نہیں چھوڑا۔

سعودیہ ایران تعلقات

سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کے حوالے سے عبدالرحمن الراشد نے کہا کہ مارچ سنہ 2023ء میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والا 'بیجنگ معاہدہ' عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی خاص بات چین کا ایک مضبوط ضامن کے طور پر ہونا تھا، لیکن اس کی بنیاد 'عدم جارحیت' پر تھی جو کہ مملکت کے خلاف دشمنانہ حملوں کے آغاز کے بعد سے ختم ہو چکی ہے۔

سعودی عرب کا ترقیاتی ماڈل

عبدالرحمان الراشد نے 'ویژن 2030' میں نظر آنے والے سعودی ترقیاتی ماڈل اور خطے میں ایران کے توسیعی ماڈل کے درمیان ایک دلچسپ موازنہ پیش کیا۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ سعودی عرب نے اپنے وسائل 'ویژن 2030' اور معاشی تعمیر و ترقی میں لگائے، جبکہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کے منصوبوں اور فوجی مہم جوئیوں میں کھربوں ڈالر ضائع کر دیے جس سے اسے معاشی تباہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔

ایرانی عوام

الراشد نے 'الکلام خلیجی' میں ایران کے محور پر اپنی بات ختم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ "ایرانی عوام ایک عظیم قوم ہیں جو اس عذاب کے مستحق نہیں جس سے وہ گزر رہے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا ایک نارمل سول ریاست میں تبدیل ہونا پورے خطے کی شکل بدل دے گا۔

خلیجی تعاون کونسل اور بحرانوں کا مقابلہ

سعودی صحافی نے بحرانوں کے مقابلے میں خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ انہوں نے تاریخی موڑ پر خلیجی ممالک کی مضبوطی کا ذکر کیا، خاص طور پر ایران کے خلاف حالیہ امریکی اسرائیلی جنگ اور خلیجی ممالک پر اس کے اثرات کے حوالے سے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ 38 روزہ جنگ نے خلیجی ممالک کے درمیان لاجسٹک اور عسکری ہم آہنگی کی مہارت کو ثابت کر دیا ہے۔

عبدالرحمن الراشد نے خلیجی ممالک پر بات کرتے ہوئے موجودہ بحران کے سائے میں خاص طور پر کویت کو درپیش خطرات کی وضاحت کی۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ کویت کو اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے بڑے خطرے کا سامنا ہے کیونکہ وہ 'رأس الخلیج' پر عراق کی سرحدوں سے جڑا ہوا ہے جو اب ایک ایرانی محاذ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

کویت کو نشانہ بنانے پر خلیجی تشویش

جب سے خلیجی ممالک کے خلاف ایرانی حملے شروع ہوئے ہیں، ایران سے وابستہ مسلح گروہوں نے عراق کی سرزمین سے میزائل اور ڈرون داغے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک نے ان 'سفاکیت' پر مبنی اقدامات کے خلاف سفارتی اقدامات کیے ہیں۔ الراشد نے یہاں اشارہ کیا کہ خلیج تعاون کونسل کو اپنے موجودہ ورژن میں عراق کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

الراشد نے حالیہ جنگ میں کویت کو نشانہ بنانے والے عراقی گروہوں کے رویے کو سابق عراقی صدر صدام حسین کے دورِ حکومت سے تشبیہ دی جب انہوں نے کویت پر حملے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں خلیجی ممالک کو ایک تقدیر ساز امتحان کا سامنا کرنا پڑا اور اسی سے خلیجی تعاون کونسل کی بنیاد پڑی۔

سعودی صحافی نے مزید کہا کہ عراق سے ہونے والے ایرانی حملوں میں کویت کو نشانہ بنانا خلیجی ممالک کے لیے تشویش کا باعث بنا کیونکہ اس سے کویتی سرزمین کو زمینی خطرے کے احتمال کا خدشہ پیدا ہوا۔ یہ خدشہ جنگ کی گہرائی اور انجام کے بارے میں واضح علم نہ ہونے کی وجہ سے مزید بڑھ گیا۔

عمان کا کردار

ماجد ابراہیم کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے عمان کے کردار کے بارے میں ایک مختلف رائے پیش کی۔ انہوں نے اسے خلیجی مفادات کے حق میں ایک ایسا موقف قرار دیا جو ایران کے ساتھ ضروری مذاکراتی ذرائع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ان درجہ بندیوں کی سختی سے نفی کی جو مسقط کو خلیجی دائرے سے باہر یا ایرانی محور کا حصہ قرار دیتی ہیں۔

ریاض اور اسلام آباد معاہدہ نیا توازن

ان تمام امور سے ہٹ کر عبدالرحمان الراشد نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تزویراتی دفاعی معاہدے کو ایک تزویراتی 'ماہرانہ چال' قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نے طاقت کا ایک نیا توازن (مشرق تا مغرب) پیدا کر دیا ہے اور پہلی بار ایران کے مشرقی محاذ کو بے نقاب کر دیا ہے، جس نے ایک ایسی بالواسطہ دفاعی چھتری فراہم کی ہے جس نے خطے کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں