ٹرمپ جنگ بندی بڑھا کر اچانک حملے کی تیاری میں ہے:ایران کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے ایک مشیر نے منگل کے روز کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع دراصل وقت حاصل کرنے کی چال ہے تاکہ اچانک حملہ کیا جا سکے۔

قالیباف کے مشیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر جاری امریکی محاصرہ کسی بمباری سے کم نہیں اور اس کا فوجی جواب دیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب ایران کی اعلیٰ مشترکہ عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات مزید کشیدہ ہوئے تو پہلے سے طے شدہ اہداف پر ''شدید حملہ '' کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ٹرمپ کی جانب سے بار بار دی جانے والی دھمکیوں کے تناظر میں۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے کمانڈر جنرل مجید موسوی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران پر حملہ کرنا ایک بڑی غلطی ہوگی اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات کے لیے مزید وقت مل سکے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ برقرار رکھا جائے گا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر لکھا کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی، جب تک ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی تجویز پیش نہیں کرتا، اس دوران امریکی فوج کو محاصرہ جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ توسیع اس وقت کی گئی جب جنگ بندی ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی تھے۔ اسی دوران وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے، جہاں امن مذاکرات کا دوسرا دور متوقع تھا۔

ٹرمپ نے مذاکرات نہ ہونے کی وجہ ایران کے اندرونی اختلافات کو قرار دیا، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت نے ان سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں