سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس امر پر اطمینان ظاہر کیا ہے کہ مملکت میں ویژن 2030 کے تحت اہداف اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہے۔ عالمی سطح پر موجود چیلنجوں کے باوجود ویژن 2030 کے تحت زبردست کامیابیاں مل رہی ہیں۔
عالمی سطح پر پیدا ہونے والے چیلنجوں میں انہوں نے کہا معاشی شعبے میں آنے والے اتار چڑھاؤ ، سیاسی کشیدگی اور افراتفری کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک دہائی سے جاری مسائل کے باوجود سعودی ویژن نے اپنی پیش رفت کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے کئی سنگ میل عبور کر لیے ہیں۔
انہوں نے کہا یہ اس لیے ممکن ہوا ہے کہ تذویراتی منصوبہ بندی اور مالیاتی پالیسسیوں کو لچکیلے مگر دور اندیشی کی بنیاد پر ایک متحرک اپروچ کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ اس اپروچ کے تحت مستقبل کے چیلنجوں کا ادراک بھی رہا اور پیدا ہونے والے مواقع کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حکومتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی کوششیں اسی شد و مد سے جاری رکھیں۔ جو بھی مواقع سامنے آرہے ہیں انہیں بروئے کار لانے کی حکمت عملی اپنائی جائے اور مملکت کے بہترین مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی عوام اور معیشت کے حق میں اقدامات کیے جائیں۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے حالیہ برسوں کے دوران مختلف شعبوں میں ہونے والی ترقی کی تعریف کی اور کہا ایک جامع اور پائیدار قومی ترقیاتی عمل کی ضرورت ہے تاکہ سعودی شہری اپنے پورے جذبے اور عزم کے ساتھ عالمی سطح پر مختلف شعبوں میں قیادت کر سکیں۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا کہ ویژن 2030 ، اس سال یعنی 2026 میں اپنے تیسرے اور حتمی مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ وقت اور مرحلہ قومی پروگرام اور تذویراتی پیش قدمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے ویژن کے اہداف کی تکمیل، قومی امنگوں کو پورا کرنے اور اپنے مالیاتی و سماجی ٹراسفارمیشن کے عمل کو آگے بڑھاتے چلے جانا ہے۔ تاکہ ترقی کی رفتار برقرار رکھی جا سکے۔
واضح رہے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے یہ خیالات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اقتصادی اور ترقیاتی امور سے متعلق کونسل نے ویژن 2030 عمل کے 'اپ ڈیٹس' کا جائزہ لیا ہے۔ اس جائزے میں ویژن کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے جائزے کے علاوہ تیسرے مرحلے کے آغاز کے تناظر میں مواقع اور چیلنجوں کو بھی دیکھا گیا۔
سعودی ویژن 2030 کا تیسرا مرحلہ 2026 سے 2030 کے برسوں پر محیط ہو گا۔ یہ تیسرا مرحلہ ہی حتمی اور آخری مرحلہ ہے، اس لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہو گئی ہے۔ اس مرحلے میں پیش رفت کی رفتار کو برقرار رکھنا، سرمایہ کاری اور سرکاری اخراجات کو بلا تعطل جاری رکھنا اس مرحلے کی تکمیل اور ثمرات کے حصول کے لیے اہم ہوگا۔ اسی سے معاشی تنوع اور نجی شعبے کی فعالیت کا مؤثر دور سامنے آئے گا۔ کونسل نے ان تمام امور کا جائزہ لیا ہے۔