ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی فوجی کارروائیوں کی توسیعی شکل ہے : مسعود پیزشکیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ جنگ بندی اعلان کے باوجود امریکہ کی بحری فوج کی طرف سے مسلسل ایران کی ناکہ بندی جاری رکھا جانا فوجی کارروائیوں کی ہی شکل ہے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر سامنے آیا ہے۔

مسعود پیزشکیان نے کہا 'دنیا نے ایران کی طرف سے تحمل ، برداشت اور صلح جوئی کی اپروچ دیکھ لی ہے۔ اس کے بر عکس دوسری جانب سے جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ بھی دیکھ رہی ہے۔ کہ کس طرح ایران کی بحری ناکہ بندی کے بھیس میں درحقیقت ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں ہی جاری ہیں۔ یہ قیمت ہے جو ایک قوم کو اپنی آزادی و خود مختاری برقرار رکھنے کے لیے ادا کرنا پڑ رہی ہے۔'

ایرانی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا 'لیکن جارحیت کے مرتکب ملک کی یہ مسلسل جارحیت ناقابل قبول ہے۔' یاد رہے امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی کر کے ایرانی تجارت کو انتہائی سکیڑ دیا ہے۔ ایرانی تیل کی برآمد اس بحری ناکہ بندی کے نشانے پر ہے اور تیل سے بحرے جہاز سمندر میں پھنس کے رہ گئے ہیں۔

جمعرات کے روز ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک تحریری بیان میں قرار دیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ ہار چکا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای اسی جنگ میں زخمی ہوئے تھے۔ انہیں ان کے والد علی خامنہ ای کی جنگ کے پہلے ہی روز ہو جانے والی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر بنایا گیا ہے۔ تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی جان کو بھی دشمن کی طرف سے خطرہ ہے ۔ اس لیے وہ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں