ایک ایسے اقدام میں جسے فلسطینیوں کے لیے اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے، اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر کی اہلیہ نے ان کی سالگرہ پر ایک ایسا کیک پیش کیا، جس پر پھانسی کا پھندا بنا ہوا تھا۔
اس کیک پر ''خواب کبھی کبھار پورے ہوتے ہیں ''بھی لکھا تھا، جسے بعض حلقوں نے اس قانون کی طرف اشارہ قرار دیا ہے، جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کی اجازت دی گئی ہے،جس کی حمایت بن گویر کرتے رہے ہیں۔
بن گویر کے فلسطینیوں کے حوالے سے بیانات، خصوصاً مغربی کنارے اور غزہ کے بارے میں اور اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کے دفاع میں ان کے مؤقف نے اسرائیل، عرب دنیا اور عالمی سطح پر بارہا تنازع کھڑا کیا ہے۔
اسی تناظر میں جون 2025 میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ناروے، نیدرلینڈز اور اسپین سمیت کئی ممالک نے ان پر پابندیاں عائد کیں اور ان کے سفر پر قدغن لگائی۔
یاد رہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے مارچ میں ایک قانون منظور کیا تھا، جسے اسرائیلی اصطلاح میں دہشت گردوں کے لیے سزائے موت کا قانون کہا جاتا ہے، جو فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کی اجازت دیتا ہے۔
اگرچہ اسرائیل نے دہائیوں قبل سزائے موت ختم کر دی تھی، تاہم بعض کیسز میں فوجی عدالتوں نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف سزائے موت کے فیصلے سنائے، جنہیں بعد میں عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل میں خاص طور پر دائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت بحال کرنے کے مطالبات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔