امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک سے نکال دیا جائے: لبنانی حزب اللہ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

لبنان میں حزب اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر نکال دیا جائے۔ یہ مطالبہ امریکی سفیر کی طرف سے ایک سینیئر مسیحی رہنما کی حمایت کرنے اور اس کی طرف سے حزب اللہ کے لیڈر نعیم قاسم کے بارے میں مضحکہ اڑانے والی ویڈیو شیئر کیے جانے کے تنازعے کے بعد پیدا شدہ صورت حال میں سامنے آیا ہے۔

امریکی سفیر نے مسیحی رہنما کی طرف سے متنازعہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے بعد مسیحی رہنما کی مذمت کیے جانے پر مذکورہ مسیحی رہنما سے ملاقات کی تاکہ باور کرایا جاسکے کہ امریکہ لبنان کے مسیحی رہنما کی سرپرستی کے لیے موجود ہے۔ تاہم اس موقع پر امریکی سفیر نے ان لوگوں کو لبنان کی بجائے کسی اور ملک میں چلے جانے کا مشورہ دیا جنہوں نے مسیحی رہنما کی حزب اللہ لیڈر نعیم قاسم کی توہین پر مبنی ویڈیو نشر کر کے ملک میں فرقہ وارانہ فضا پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔

امریکہ کے سفیر نے سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی اس ویڈیو کی مذمت نہیں کی ۔ جس میں حزب اللہ کے لوگوں کو ناراض پرندے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ بلکہ الٹا حزب اللہ کے ان حامیوں کو ملک سے چلے جانے کا کہا۔ اس پر پیر کے روز حزب اللہ نے امریکی سفیر کو ملک میں فرقہ وارانہ فضا پیدا کرنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لبنانی حکام اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دیں اور ملک سے نکال دیا جائے۔

یہ متنازعہ ویڈیو لبنانی چینل 'ایل بی سی آئی' نے بھی نشر کی ہے۔ یہ ویڈیو موبائل فون گیم کے طور پر بھی وائرل کی گئی ہے۔ جس پر حزب اللہ کے حامیوں میں کافی رد عمل پیدا ہوا ہے۔ کچھ حامیوں نے جوابا مسیحی لیڈر بشرا رائے کے بارے میں بھی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جو اس مسیحی رہنما کا مضحکہ اڑانے کی غرض سے ہے۔

جبکہ اس مسیحی رہنما بشرا رائے کے حامیوں نے بھی سوشل میڈیا پر بڑھ چڑھ کر اپنے لیڈر کے حق میں مہم چلائی ہے۔ یہ مسیحی رہنما لبنان میں سب سے موثر مسیحی فرقے کا مذہبی پیشوا بھی مانا جاتا ہے۔ امریکی سفیر بھی اس مقامی تنازعے میں مسیحی رہنما کے ساتھ آکھڑے ہوئے ہیں۔

پیر کے روز امریکی سفیر مائیکل عیسیٰ نے متنازعہ ویڈیو شیئر کرنے والے اور حزب اللہ کے حامیوں کی سخت تنقید کا نشانہ بننے والے اس مسیحی لیڈر سے ملاقات کی اور کہا میں اختتام ہفتہ پر مسیحی رہنما کے بارے میں پیدا کی گئی صورت حال کو رد کرتا ہوں۔ یہ لبنان میں نامناسب واقعہ ہے۔ کیونکہ لبنان کی شناخت ہی ایک ایسے ملک کی جہاں تمام فرقوں کے لوگ بقائے باہمی کے تحت رہتے ہیں۔

اس موقع پر امریکی سفیر مائیکل عیسیٰ نے جو زیادہ حساس بات کہی وہ یہ تھی کہ 'لبنان ایسے لوگوں کے رہنے کے لیے موزوں ملک نہیں ہے جو مسیحی رہنما کے خلاف سرگرم ہیں۔ انہیں چاہیے کسی اور ملک میں جا بسیں۔'

حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ علی عمار نے امریکی سفیر کا یہ متنازعہ موقف سامنے آنے پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی سفیر کی مذمت کی ہے ۔ علی عمار کے مطابق لبنانی شہریوں کو ہی لبنان سے نکل جانے کے لیے کہنے پر مبنی بیان لبنان کے اندرونی معاملات میں حد سے بڑھی ہوئی مداخلت کا اظہار ہے۔ اس لیے اس سفیر کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے اور اسے ناپسندیدہ شخص قرار دینا چاہیے۔

اس متانزعہ صورت حال میں مذہبی رہنماؤں پر حملوں کی لبنانی صدر جوزف عون اور حزب اللہ کے حامی سپیکر پارلیمنٹ نبیہ بیری نے بھی مذمتی بیانات جاری کیے ہیں۔ تاہم بعد ازاں ٹی وی چینل 'ایل بی سی آئی' نے حزب اللہ رہنما کا مذاق اڑانے پر مبنی یہ ویڈیو اس وقت ڈیلیٹ کر دی جب لبنانی عدلیہ نے اس چینل کو طلب کر لیا ہے۔ یہی ویڈیو تنازعہ پیدا کرنے کا موجب بنی تھی۔

اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف جنگ میں اب تک 2700 لبنانی مارے جا چکے ہیں۔ تاہم ان دنوں جنگ بندی کا عبوری سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران مقامی طور پر یہ تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ جس میں امریکی سفیر بھی کود گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں