آسٹریلیا: شامی کیمپ میں داعش سے منسلک شہری وطن واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں

آسٹریلوی حکومت نے ان لوگوں کی مدد سے صاف انکار کر دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

آسٹریلیا نے بدھ کے روز کہا ہے کہ شام میں شدت پسند گروپ داعش سے منسلک آسٹریلوی خاندانوں کے 13 افراد اپنے وطن واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن انہیں حکومت سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔

وزیرِ داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ آسٹریلوی شہریوں کو ملک میں دوبارہ داخل ہونے سے روکنے کے لیے حکام جو کر سکتے ہیں، اس پر "انتہائی سنگین حدود" نافذ ہیں۔

برک نے صحافیوں کو بتایا، "حکومت ان افراد کی مدد نہیں کر رہی اور نہ کرے گی۔ انہوں نے ایک خوفناک اور ذلت آمیز فیصلہ کیا۔ ان لوگوں نے جو فیصلے کیے، حکومت کی طرف سے ان کے لیے مکمل تعاون کا فقدان ان کی براہِ راست عکاسی کرتا ہے۔" گروپ میں چار خواتین اور نو بچے شامل ہیں۔

برک نے کہا، واپس آنے والے کسی بھی شخص پر اگر مجرمانہ سرگرمیوں کا شبہ ہو تو اسے "بغیر کسی استثناء کے قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا ہو گا" اگرچہ انہوں نے ممکنہ الزامات کی وضاحت نہیں کی۔

آسٹریلوی فیڈرل پولیس کمشنر کرِسی بیرٹ نے کہا، واپس آنے والے بعض آسٹریلوی باشندوں کو گرفتار کر کے ان پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے جبکہ دیگر کو زیرِ تفتیش رکھا جا سکتا ہے۔ بچوں کے لیے کمیونٹی ری انٹیگریشن اور سپورٹ پروگرام ہوں گے۔

بعض آسٹریلوی خواتین نے 2012 اور 2016 کے درمیان اپنے شوہروں کے ساتھ شامل ہونے کے لیے شام کا سفر کیا جو مبینہ طور پر داعش کے رکن بن چکے تھے۔ آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2019 میں خلافت کے خاتمے کے بعد کئی لوگوں کو کیمپوں میں نظر بند کر دیا گیا تھا جبکہ بعض اپنے گھروں کو لوٹ گئے تھے۔

حراستی مراکز میں سے ایک عراقی سرحد کے قریب ال ہول کیمپ تھا جس میں داعش کے مشتبہ شدت پسندوں کے رشتہ داروں کو رکھا گیا تھا۔ یہ دہشت گرد داعش کے خلاف امریکی حمایت یافتہ مہم کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔

کرد زیرِ قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے خاتمے کے بعد جنوری میں امریکہ نے شام سے حراست میں لیے گئے داعش کے ارکان کو منتقل کرنا شروع کیا۔ یہ فورسز داعش کے شدت پسندوں اور غیر ملکیوں سمیت اس سے وابستہ شہریوں کو رکھنے والی ایک درجن کے قریب تنصیبات کی حفاظت کر رہی تھیں۔

فروری تک 1,000 سے کم خاندان شام کے شمال مشرق کے ان کیمپوں میں رہ گئے جو داعش کے مشتبہ دہشت گردوں کے رشتہ داروں کو حراست میں رکھنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں