بحرین کی پارلیمنٹ نے آج جمعرات کو اپنے پہلے غیر معمولی اجلاس کے آغاز پر تین ارکان کی رکنیت ختم کرنے کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ آئین کی دفعات اور مجلس کے داخلی قواعد و ضوابط کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
اس فیصلے کی زد میں آنے والے ارکان میں مجلس کے فرسٹ ڈپٹی اسپیکر عبدالنبی سلمان، سروسز کمیٹی کے چیئرمین ممدوح الصالح اور ڈاکٹر محمد الشمروخ شامل ہیں۔ ان ارکان کی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ 37 ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے پیش کردہ اس درخواست کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے جسے قانونی و قانون سازی کے امور کی کمیٹی کو ارسال کیا گیا تھا۔
ایوان نے اپنے اس فیصلے کے لیے مملکتِ بحرین کے دستور کی دفعہ (99) اور داخلی قواعد کے چوتھے باب کا سہارا لیا ہے، جس کا تعلق رکنیت کے فرائض کی خلاف ورزی پر دی جانے والی سزاؤں سے ہے۔ اجلاس کے دوران رکنیت ختم کرنے کے لیے نام لے کر ووٹنگ کرائی گئی۔
اس فیصلے کے پسِ منظر میں 28 اپریل 2026 کو ہونے والا وہ اجلاس ہے جس میں عدلیہ کے قانون کی دفعہ (7) میں ترمیم سے متعلق 'آرڈیننس بقانون نمبر 13 برائے سال 2024' زیرِ بحث تھا۔ رکنیت کی برخاستگی کی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ان تینوں ارکان نے ایرانی حملوں کی ستائش کرنے والے ملزمان کے خلاف کی گئی کارروائیوں پر تنقید کی تھی، جن میں ملوث افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے بھی شامل تھے۔
-
آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران پر پابندیاں برقرار رہیں گی: فرانس
امریکی مثبت اشاروں کے باوجود جو ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہونے کی طرف اشارہ ...
بين الاقوامى -
ایرانی صدر مسعود بزشکیان کا معاشی دباؤ کا اعتراف ،سپریم لیڈر سے طویل ملاقات کا انکشاف
ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای گذشتہ مارچ میں اپنے والد کے قتل کے بعد تقرری ...
مشرق وسطی -
پاکستان پرامید، اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم
ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز کا ابھی مطالعہ جاری ہے اور یہ توقع ...
مشرق وسطی