ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای گذشتہ مارچ میں اپنے والد کے قتل کے بعد تقرری سے لے کر اب تک ایک بار بھی منظر عام پر نہیں آئے تاہم ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے سپریم لیڈر کے ساتھ ایک طویل ملاقات کی ہے۔
مسعود بزشکیان نے جمعرات کو تہران میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں رہبر اعلیٰ کے ساتھ ڈھائی گھنٹے طویل ملاقات کی۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں کے درمیان یہ ملاقات انتہائی دوستانہ ماحول میں ہوئی۔
معاشی دباؤ میں اضافہ
علاوہ ازیں صدر مسعود بزشکیان نے معاشی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام ایرانی عوام پر معاشی دباؤ بڑھانے کے بارے میں کھل کر بات کر رہے ہیں جس کا مقصد عدم اطمینان کی صورتحال پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں معاشی دباؤ بڑھانے، اندرونی استحکام کو متزلزل کرنے اور قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کے لیے بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔
انہوں نے ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ متحد رہیں اور باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں تقسیم کو روکنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اندرونی تنقید ملک میں انتشار کا سبب نہیں بننی چاہیے۔
گذشتہ روز فرانسیسی صدر عمانویل میکروں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران مسعود بزشکیان نے اشارہ دیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے حوالے سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ ختم کرے۔
دوسری جانب ایرانی مجلس شوریٰ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک دور حاضر کی ایک بڑی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن معاشی دباؤ اور بحری محاصرے کے ذریعے ایران کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ داخلی استحکام کو پارہ پارہ کر کے ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس دباؤ کے اثرات آبنائے ہرمز جیسی حساس آبی گزرگاہوں سے متعلق نئے امریکی اقدامات اور ایرانی بندرگاہوں کے امریکی بحری محاصرے کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔
تدریجی بحالی
العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے قبل ازیں انکشاف کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو تدریجی طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے بھرپور رابطے جاری ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ آنے والے گھنٹوں میں اس اہم بحری گزرگاہ میں پھنسے ہوئے جہازوں کی صورتحال میں بہتری دیکھنے میں آئے گی، جن کی تعداد بعض اندازوں کے مطابق 1500 سے زائد ہے۔
دریں اثنا ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ امریکی تجویز پر ایرانی جواب آج کسی وقت اسلام آباد کے حوالے کر دیا جائے گا جو ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ 28 فروری سنہ 2026ء سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی حتمی حل تک پہنچا جا سکے۔
واضح رہے کہ نئے رہبر اعلیٰ جو جنگ کے پہلے روز تہران میں اپنے والد علی خامنہ ای کے ٹھکانے پر ہونے والی بمباری میں زخمی ہوئے تھے، گذشتہ مارچ میں اپنی تقرری کے بعد سے نہ تو عوامی سطح پر نظر آئے ہیں اور نہ ہی ان کی آواز سنی گئی ہے۔ متعدد رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی ٹانگ پر آنے والے گہرے زخموں اور چہرے کے بگڑنے کی وجہ سے روپوش ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان تک رسائی کو انتہائی محدود کر دیا گیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اسرائیل نے بارہا انہیں ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔
-
''معاملہ جلد حل ہو جائے گا''، ٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا عندیہ
امریکی صدرکے مطابق ایران نے دیگر امور کے ساتھ جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر بھی ...
بين الاقوامى -
محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے ایرانی بحری آئل ٹینکر پر امریکی فوج کی فائرنگ
امریکی افواج نے ایران کی ایک بندرگاہ کی جانب جانے والے ٹینکر "حسناء" کو متعدد بار ...
بين الاقوامى -
آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران پر پابندیاں برقرار رہیں گی: فرانس
امریکی مثبت اشاروں کے باوجود جو ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہونے کی طرف اشارہ ...
بين الاقوامى