ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز کا ابھی مطالعہ جاری ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی اپنا جواب پاکستانی ثالث کے حوالے کر دے گا، اس دوران اسلام آباد نے محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد علاقائی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ یہ بتانا قبل از وقت ہے کہ دونوں فریقین معاہدے پر دستخط کرنے کے کتنا قریب یا دور ہیں، تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ان کا ملک پرامید ہے۔
ہمارے لیے باعث فخر ہو گا
ترجمان نے ان خبروں کا خیر مقدم کیا جن میں آنے والے دنوں میں معاہدے پر دستخط کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے مقامی میڈیا کے مطابق اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایک ثالث کی حیثیت سے مذاکرات کی تفصیلات ظاہر کر کے دونوں فریقوں کا اعتماد نہیں کھو سکتا۔
اسی دوران جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ ہونے کی صورت میں دستخط کہاں ہوں گے، تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم کہ دستخط کہاں ہوں گے لیکن اگر یہ اسلام آباد میں ہوئے تو ہمارے لیے باعث فخر ہوگا۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بعض ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ اب محض چند نکات حل طلب ہیں جن کا خلاصہ چار مسائل میں کیا جا سکتا ہے۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے مزید بتایا کہ ایران نے امریکی تجویز میں شامل اکثر نکات پر اتفاق کر لیا ہے۔
ٹرمپ کا فوری جواب کا مطالبہ
اسی دوران ایک پاکستانی ذریعے نے العربیہ اور الحدث کو انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تجویز پر فوری جواب طلب کیا ہے۔ ذریعے نے مزید بتایا کہ ایرانی جواب آج کسی بھی وقت جمع کرایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الوقت ایرانیوں اور امریکیوں کے درمیان کسی براہ راست ملاقات کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ابھی بات چیت جاری ہے اور اس حوالے سے مفاہمت تک پہنچنا اب بھی ممکن ہے۔
ایک صفحے کی یادداشت
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گذشتہ شام واضح کیا تھا کہ ان کا ملک ابھی تک امریکی تجویز پر غور کر رہا ہے اور اپنا جواب پاکستان کو فراہم کر دے گا، تاہم انہوں نے اس کے لیے کوئی حتمی وقت نہیں بتایا۔
دوسری جانب ایک پاکستانی ذریعے اور ثالثی کی کوششوں سے باخبر ایک دوسرے ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ دونوں فریق ایک صفحے کے’ایم او یو‘پر اتفاق کے قریب ہیں جس سے جنگ کا باقاعدہ خاتمہ ہو جائے گا۔ رائٹرز کے مطابق انہوں نے وضاحت کی کہ اس یادداشت پر اتفاق کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کی بحالی، ایران پر سے امریکی پابندیوں کے خاتمے اور اس کے ایٹمی پروگرام پر پابندیوں سے متعلق مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔
مذاکرات میں شامل ایک اور سینیئر پاکستانی عہدیدار نے بھی آج جمعرات کو اشارہ دیا کہ مذاکرات کاروں کو معاہدے تک پہنچنے کی امید ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فریقین کے درمیان خلیج اب بھی موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ترجیح یہ ہے کہ وہ جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان کریں اور ایک بار جب وہ براہ راست مذاکرات کی میز پر واپس آجائیں تو باقی مسائل پر بحث کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پہلا دور گذشتہ اپریل کے آغاز میں اسلام آباد میں ہوا تھا جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ نافذ کر دیا تھا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے اپنی دھمکیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے 28 فروری سنہ 2026ء کو ایک طرف ایران اور دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے بحری آمد و رفت تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
-
محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے ایرانی بحری آئل ٹینکر پر امریکی فوج کی فائرنگ
امریکی افواج نے ایران کی ایک بندرگاہ کی جانب جانے والے ٹینکر "حسناء" کو متعدد بار ...
بين الاقوامى -
آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران پر پابندیاں برقرار رہیں گی: فرانس
امریکی مثبت اشاروں کے باوجود جو ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہونے کی طرف اشارہ ...
بين الاقوامى -
ایرانی صدر مسعود بزشکیان کا معاشی دباؤ کا اعتراف ،سپریم لیڈر سے طویل ملاقات کا انکشاف
ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای گذشتہ مارچ میں اپنے والد کے قتل کے بعد تقرری ...
مشرق وسطی