ہرمز کی بندش مسترد کرتے ، منڈیوں کے استحکام کی حمایت جاری رکھیں گے: سعودی عرب
چیلنجز کے لیے ایسی اجتماعی ہم آہنگی کی ضرورت جو بحری گزرگاہوں کے تحفظ کو یقینی بنائے: ولید الخریجی
سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے اور اس کی مذمت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور منڈیوں کے استحکام اور رسد کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور لاجسٹک روابط کو بہتر بنا کر اور نقل و حمل، اسٹوریج اور سپلائی چینز کی لچک میں تعاون کے ذریعے علاقائی اور بین الاقوامی تجارتی بہاؤ کی روانی برقرار رکھنے میں اپنے کردار کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ یہ بات سعودی نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی نے ویڈیو لنک کے ذریعے گروپ ’’ ایم ای ڈی نائن ‘‘ کے رکن ملکوں، عرب لیگ کے رکن ملکوں اور مغربی بلقان کے پارٹنر ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے دوران کہی۔
سعودی عرب نے کہا کہ جہاز رانی کی آزادی ایک بنیادی اصول ہے جس کی ضمانت قانون دیتا ہے اور اس کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔ انجینئر ولید الخریجی نے کہا کہ یہ چیلنجز ایسی اجتماعی ہم آہنگی کے متقاضی ہیں جو بحری گزرگاہوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عملی اقدامات پر توجہ دی جائے جو دستیابی کو بڑھانے اور بنیادی رسد تک رسائی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں تاکہ شراکت داروں کے درمیان تعاون کو فروغ ملے اور علاقائی و بین الاقوامی استحکام کی حمایت ہو۔
سعودی نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی نے مزید کہا کہ ان رکاوٹوں کے اثرات کھادوں اور بنیادی غذائی سامان کی نقل و حرکت پر اثر انداز ہو کر عالمی غذائی تحفظ کے نظام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس سے اس بات کی ضرورت بھی واضح ہوتی ہے کہ خوراک اور کھادوں کو کسی بھی ایسے دباؤ یا طریقوں سے الگ رکھا جانا چاہیے۔