ایرانی فوج کی معاونت کا الزام... 10 افراد اور کمپنیوں پر امریکی پابندیاں عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزارتِ خزانہ نے 10 افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن پر ایرانی فوج کو ہتھیاروں کی فراہمی اور فوجی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے مواد کے حصول میں مدد فراہم کرنے کا الزام ہے۔

وزارت نے جمعے کے روز واضح کیا کہ پابندیوں کی اس فہرست میں چین میں قائم دو کمپنیاں اور ہانگ کانگ میں قائم تین کمپنیاں شامل ہیں، جن پر ایرانی فوج سے وابستہ سپلائی نیٹ ورک کی معاونت کا الزام ہے۔

امریکی وزارتِ خزانہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ ایران کی "فوجی مشینری" کے خلاف مزید اقتصادی اقدامات کے لیے تیار ہے۔ ساتھ اس اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ایرانی غیر قانونی تجارت کی حمایت کرنے والی کسی بھی غیر ملکی کمپنی بشمول ایئر لائنز کا تعاقب جاری رکھا جائے گا۔

مزید برآں یہ وضاحت بھی کی گئی کہ وزارت ان غیر ملکی مالیاتی اداروں پر ثانوی پابندیاں عائد کر سکتی ہے جو ایران کی کوششوں میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں، بشمول وہ ادارے جن کا تعلق چین کی نجی تیل صاف کرنے والی ریفائنریوں سے ہے۔

دوسری جانب وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ "ہم امریکہ کی سکیورٹی برقرار رکھنے اور ان افراد و غیر ملکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کام جاری رکھیں گے جو ایرانی فوج کو امریکی افواج کے خلاف استعمال کے لیے ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔"

وزارتِ خزانہ کا یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے طے شدہ دورے اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے چند روز قبل سامنے آیا ہے، اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں