لبنان کی نصف سے زائد آبادی امداد کی مستحق ہے: یورپی یونین عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یورپی یونین کے حکام کے مطابق پچھلے دو ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیل کی نئی جنگ کی زد میں آنے والے لبنان کی صورت حال خراب ہونے کے باعث اس کی نصف سے زائد آبادی امداد کی مستحق ہو چکی ہے۔

یورپی یونین کے حکام نے یہ بات جمعہ کے روز اس وقت کہی جب وہ جنگ بندی کے ماہ اپریل میں ہونے والے اعلان کے باوجود اسرائیلی بمباری کا ذکر کر رہے تھے۔

اس وقت تین ملین سے زیادہ لبنانی نقل مکانی اور دیگر جنگی وجوہ کی بنیاد پر امداد پر گزارا کر رہے ہیں۔ یہ تعداد لبنان کی کل آبادی کا نصف بنتی ہے۔ یورپی یونین کے کرائسس مینیجمنٹ چیف حدیہ لاہبیب لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ ملاقات کے بعد بیرو ت میں رپورٹرز سے گفتگو کر رہی تھیں۔

انہوں نے کہا 2 مارچ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے 27 یورپی ملکوں کے اتحاد یورپی یونین نے 100 ملین یورو کی امداد فراہم کی ہے۔ علاوہ ازیں چھ جہازوں کے ذریعے امدادی سامان بھی بھیجا گیا ہے۔ ساتواں امدادی سامان لانے والا جہاز ہفتے کے روز لبنان پہنچ جائے گا۔

واضح رہے 2 مارچ سے شروع کی گئی بمباری کی نئی جنگی لہر کے نتیجے میں 2700 لبنانی مارے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ دس لاکھ سے زائد لبنانی شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

اقوام متحدہ نے مارچ کے مہینے کے دوران ہی لبنانی عوام کی امداد کے لیے 308 ملین ڈالر کی امداد کی اپیل کی تھی۔ لیکن اب تک 126 ملین ڈالر جمع ہو سکے ہیں۔ خدیجہ لاہبیب کے مطابق حالیہ دنوں جنگ بندی کے کیے گئے اعلان سے ایک چھوٹی سی امید پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا حزب اللہ سے لازما ہتھیار واپس لیے جانے چاہییں اور اسرائیل کو بمباری بند کرنی چاہیے۔

یوری یونین کی عہدے دار نے کہا جنگ بندی کو ایک مکمل امن کی طرف بڑھانے کے لیے حوصلہ اور سیاسی خواہش کی ضرورت ہے۔ تاکہ جنگ کا سبب بننے والی اس کی بنیادی وجہ کو تلاش کیا جاسکے۔ اسرائیل اور لبنان کے حکام کے درمیان واشنگٹن میں امن ذاکرات کا تیسرا دور اگلے ہفتے میں متوقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں