سعودی آرامکو نے اتوار کو پہلی سہ ماہی کے منافع میں 25 فیصد اضافے کی اطلاع دی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ-ایران جنگی کشیدگی سے آبنائے ہرمز میں جہازرانی میں کمی واقع ہونے کے باوجود کمپنی کی لچک اور مخدوش کاروباری حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت برقرار ہے اور ریاستی کمپنی کی خام تیل کی مشرقی-مغربی پائپ لائن رسد پر اثر کم کرنے کے لیے پوری طرح کام کر رہی ہے۔
دنیا کے سرِ فہرست تیل برآمد کنندہ نے 31 مارچ کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں 32.5 بلین ڈالر کا خالص منافع کمایا جو ایل ایس ای جی کے 30.95 بلین ڈالر کے متفقہ تخمینے سے زیادہ ہے۔
امریکہ اسرائیل تنازعہ کے درمیان آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بندش سے آرامکو کو اپنے مشرقی ساحل سے بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک خام تیل کی روانی بڑھانے پر موقع ملا۔
قابلِ انحصار فراہمی 'اہم' ہے: سربراہ
آرامکو کے سربراہ امین ناصر نے کہا، "ہماری مشرقی-مغربی پائپ لائن جو 7.0 ملین بیرل یومیہ تیل کی زیادہ سے زیادہ گنجائش تک پہنچ گئی ہے، نے خود کو رسد کا ایک اہم ذریعہ ثابت کیا ہے جس سے توانائی کے عالمی جھٹکے کے اثرات کم کرنے میں مدد ملی ہے۔" نیز کہا، "توانائی کی قابلِ انحصار فراہمی بہت ضروری ہے۔"
یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع ریفائنریز کو تقریباً دو ملین بی پی ڈی فراہم کر سکتی ہے جس سے بقیہ پانچ ملین بی پی ڈی برآمد کے لیے رہ جائے گا۔
آرامکو کا ایڈجسٹ شدہ سہ ماہی خالص منافع 33.6 بلین ڈالر تھا جو کمپنی کے فراہم کردہ تجزیے سے زیادہ ہے۔
پہلی سہ ماہی کے لیے زیادہ منافع کا اعلان
آرامکو نے پہلی سہ ماہی میں 21.9 بلین ڈالر کے بنیادی منافع کا اعلان کیا جو سال بہ سال 3.5 فیصد زیادہ اور دوسری سہ ماہی میں قابلِ ادائیگی ہے۔
کمپنی نے 2023 میں کارکردگی سے منسلک ڈیویڈنڈ بھی متعارف کرایا تھا۔