طبی وجوہات کی بنا پر ایرانی سماجی کارکن نرگس محمدی ضمانت پر رہا
نرگس محمدی نے 2023 میں نوبل انعام اس وقت حاصل کیا ،جب وہ خواتین کے حقوق کے فروغ اور سزائے موت کے خاتمے کی مہم کے باعث قید میں تھیں۔
ایرانی حکام نے نوبل امن انعام یافتہ سماجی کارکن نرگس محمدی کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے اور انہیں علاج کے لیے تہران کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا ہے، یہ بات ان کے حمایتی کمیشن نے اتوار کو بتائی۔
کمیشن کے مطابق انہیں شمالی ایران کے شہر زنجان کے اسپتال میں 10 دن زیر علاج رکھنے کے بعد بھاری ضمانت کے عوض عارضی رہائی دی گئی۔
بعد ازاں انہیں ایمبولینس کے ذریعے تہران منتقل کیا گیا تاکہ ان کا علاج ان کی ذاتی میڈیکل ٹیم کرے۔
54 سالہ نرگس محمدی نے 2023 میں نوبل امن انعام حاصل کیا تھا، جب وہ خواتین کے حقوق کے فروغ اور سزائے موت کے خاتمے کی مہم کے باعث قید میں تھیں۔ انہیں دو ہفتے قبل دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔
فروری میں ان کے حمایتی کمیشن نے بتایا تھا کہ انہیں سات سال چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے اور نوبل کمیٹی نے ایران سے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
انہیں دسمبر میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے وکیل خسرو علی کردی کی موت پر احتجاج کیا تھا۔ایرانی پراسیکیوشن کے مطابق انہوں نے یادگاری تقریب میں اشتعال انگیز بیانات دیے تھے۔جنوری میں ایران نے وسیع احتجاجی مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ سروسز محدود کر دی تھیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاج میں شامل افراد کے خلاف سزائے موت کے فیصلوں پر عمل درآمد بھی جاری رہا۔