اسرائیل نے 7 اکتوبر کے مجرموں کے لیے ملٹری ٹریبونل کے قیام کا قانون منظور کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں ملوث فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایک خصوصی فوجی ٹربیونل قائم کرنے کا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔

اس بل کو اتحادی اور اپوزیشن قانون سازوں کی طرف سے پیر کو 93 ووٹ ملے اور پارلیمنٹ کے 120 ارکان میں سے کسی نے بھی مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔

خصوصی عدالت حماس کی زیرِ قیادت حملے کے دوران یا اس کے بعد پکڑے گئے حملہ آوروں پر مقدمہ چلائے گی جو تب سے حراست میں ہیں۔ یہ غزہ میں قیدیوں کو رکھنے یا ان سے بدسلوکی کرنے والے مشتبہ افراد کے خلاف بھی عدالتی کارروائی کرے گی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق توقع ہے کہ 400 کے قریب مشتبہ افراد کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

قانون سازی کے مطابق یروشلم میں قائم کردہ خصوصی فوجی عدالت کسی بھی قانون کے تحت ملزم کے خلاف مقدمہ چلانے کا دائرہ اختیار رکھتی ہے جس میں نسل کشی کی روک تھام کے قانون، تعزیرات اور انسدادِ دہشت گردی قانون کے ماتحت آنے والے جرائم شامل ہیں۔

عوام سماعتوں میں بیٹھ سکیں گے جس کے بعض حصے نشر بھی کیے جائیں گے۔

ٹریبونل کے تحت ملزم کو ایسے جرائم کا مرتکب قرار دیا جا سکتا ہے جن کے لیے اسرائیل میں سزائے موت موجود ہے۔

مارچ میں منظور کردہ ایک قانون کے تحت اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں ان فلسطینیوں کے لیے سزائے موت پہلے سے طے شدہ سزا بنا دی گئی ہے جو اسرائیلی فوجی عدالت سے "دہشت گردی کی کارروائیاں" قرار پانے والے مہلک حملے کرنے کے مرتکب پائے جائیں۔ نئی قانون سازی اس سے الگ ہے۔

یہ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ سات اکتوبر کے حملوں کے دوران کیے گئے جرائم کے مشتبہ، ملزم، یا سزا یافتہ کسی بھی شخص کو قیدیوں کی رہائی کے سودوں میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

حقوق کے گروپوں نے "شو ٹرائلز" کے امکان سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔

"سات اکتوبر کے حملوں میں زندہ بچ جانے والوں اور متأثرین کے خاندان انصاف کے مستحق ہیں، نہ کہ تشدد کے ذریعے حاصل کردہ اعترافِ جرم کی بنیاد پر اجتماعی پھانسیاں دیں اور شو ٹرائلز کیے جائیں،" تشدد مخالف عوامی کمیٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساری باشی نے ایک بیان میں کہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں