غزہ پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے تقریباً 200 دن بعد اب ایک نئی اصطلاح ’اورنج لائن‘ سامنے آئی ہے۔ یہ لائن اس یلو لائن سے بھی آگے نکل گئی ہے جس کا ذکر 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے نافذ العمل جنگ بندی کے معاہدے میں کیا گیا تھا۔
ایک مغربی سفارت کار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے زیر کنٹرول مزید علاقے چھین لیے ہیں۔ اخبار اسرائیل ہیوم کی رپورٹ کے مطابق سفارت کار نے اشارہ دیا کہ حالیہ میدانی پیش رفت کے نتیجے میں اب اورنج لائن نے یلو لائن کی جگہ لے لی ہے۔
سفارت کار کا مزید کہنا تھا کہ یہ توسیع نام نہاد امن کونسل کے علم میں لائی گئی ہے اور یہ قدم حماس کی جانب سے اسلحہ سے دستبرداری کے وعدے کو پورا نہ کرنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حماس کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
معاہدے کے مطابق ’یلو لائن‘ مشرق میں اسرائیلی فوج کے کنٹرول والے علاقوں اور مغرب میں فلسطینیوں کی موجودگی والے علاقوں کو الگ کرتی ہے جو کہ پٹی کے کل رقبے کے تقریباً 53 فیصد حصے پر محیط ہے۔
حماس کے رہنما باسم نعیم نے گذشتہ ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے یلو لائن کو مغربی علاقوں کی طرف مزید 8 سے 9 فیصد تک دھکیل دیا ہے جس سے اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول کل رقبہ غزہ کے 60 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔
اسرائیلی قبضے میں توسیع
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اورنج لائن قائم کر کے غزہ کی پٹی میں اپنے قبضے کو مزید وسعت دی ہے۔ یہ لائن اس یلو لائن کے اندر بنائی گئی ہے جہاں سے اسرائیلی فوج نے اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ کے خاتمے کے پہلے مرحلے کے طور پر انخلا کیا تھا۔
ڈوجارک نے اپنے گذشتہ بیان میں مزید کہا کہ عالمی ادارے کے پاس ایسے نقشے موجود ہیں جن میں ایک اور رنگین لکیر شامل ہے جسے اورنج لائن کہا جاتا ہے، اور یہ نقشے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے والے عملے کو بھی دیے گئے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ انسانی امدادی ٹیموں کے لیے اورنج لائن عبور کرتے وقت اسرائیل کے ساتھ پہلے سے کوآرڈینیشن کرنا ضروری ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ مطالبہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جو علاقے ہمارے لیے غیر محفوظ سمجھے جاتے ہیں وہ تشویش کا باعث ہیں۔
یلو لائن غزہ کے اندر ایک فرضی لکیر ہے جہاں تک اسرائیلی فوج جنگ بندی کے معاہدے کے تحت عارضی طور پر پیچھے ہٹی تھی تاکہ بعد میں مزید انخلا عمل میں لایا جا سکے۔ اس وقت یلو لائن کی نشاندہی پیلے رنگ کے سیمنٹ کے بلاکس سے کی گئی تھی لیکن عینی شاہدین اور مقامی ذرائع نے گذشتہ اوقات میں تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج معاہدے کے آغاز سے ہی ان بلاکس کو پٹی کے اندرونی علاقوں کی طرف منتقل کرنے پر کام کر رہی ہے۔
معاہدے کی اس مسلسل خلاف ورزی نے درجنوں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیموں کو چھوڑ کر مغرب کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے، خاص طور پر خان یونس، غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع محلہ زیتون اور جبالیہ بلدہ میں یہ صورتحال نمایاں ہے۔ پٹی کی گہرائی میں اس اسرائیلی پیش قدمی کے ساتھ فضائی اور توپ خانے کے حملے اور اندھادھند فائرنگ بھی کی گئی جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے، جن پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے یلو لائن عبور کی یا اس کے قریب آنے کی کوشش کی۔