نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) چار خلیجی ریاستوں کے نمائندگان کو انقرہ میں سربراہی اجلاس میں مدعو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں گفتگو میں بڑھتی ہوئی امریکہ-یورپ خلیج اور ایران جنگ کے حاوی رہنے کا امکان ہے۔ یہ بات اس معاملے سے واقف لوگوں نے کہی ہے۔
بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات - تمام ممالک استنبول کوآپریشن انیشیٹو کے رکن ہیں جو وسیع تر شرقِ اوسط میں نیٹو اور غیر نیٹو اراکین کے درمیان شراکت ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے لوگوں کے مطابق ان ممالک کے وزراء خارجہ کو سات تا آٹھ جولائی ترکی کے دارالحکومت میں ہونے والے اجلاس میں مدعو کیے جانے کی توقع ہے۔ نیٹو کے پریس آفس نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کرنے میں ناکامی پر تنقید کی اور بعد میں جرمنی سے تقریباً 5000 فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا جس کے بعد یہ ملاقات ایران جنگ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے امریکہ-یورپ تناؤ کے تناظر میں ہو رہی ہے۔
ایک ذریعے نے کہا، اس اقدام کا جزوی محرک نیٹو کے اپنے نام نہاد جنوبی حصے کو تقویت دینے کا منصوبہ ہے خاص طور پر ایران جنگ کے تناظر میں۔
معاملے سے واقف لوگوں نے بتایا کہ یہ سربراہی اجلاس ایک بنیادی سیشن پر مشتمل ہو گا جو گذشتہ سال کی طرح اتحاد کے 32 رہنماؤں تک محدود ہے اور جبکہ ہند-بحرالکاہل یا یوکرین جیسے ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تو وہ ضمنی تقریبات میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سربراہی اجلاس مسلسل دوسرے سال امریکی صدر کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے انتہائی لازمی عناصر پر مرکوز طرز میں منعقد کیا جا رہا ہے۔
اتحادی ممالک سال میں ایک سے کم مرتبہ اجلاس منعقد کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں جو یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز سے پہلے کا رواج تھا لیکن ایک ذریعے کے مطابق ابھی تک اس معاملے پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔
اگلے ہفتے سویڈن میں نیٹو وزراء خارجہ کے اجلاس میں منصوبہ بندی کو پختہ کیا جائے گا۔
-
متحدہ عرب امارات کے ملکیتی ٹینکر سے ایرانی حملے کے بعد عمان کے قریب ایندھن کا معمولی اخراج
سرکاری ملکیت والی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) کے ایک یونٹ نے بدھ کے روز کہا ہے ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ کی حکمتِ عملی ،ایران پر سختی اور چین میں سیاسی فائدے کی کوشش
گزشتہ سال سے چین اور امریکا کے درمیان تعلقات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ ...
بين الاقوامى -
ایرانی فوج کا فوائد کے حصول کے لیے ہرمز کو بطور حربہ استعمال کرنے کا اعتراف
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز ...
مشرق وسطی