لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی قیادت کرنے والے دو مندوبین کون ہیں؟

سابق لبنانی سفیر سائمن کرم اور اسرائیلی یحیئیل لیٹر تجربہ کار سیاستدان، آج براہ راست ملاقات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

سابق لبنانی سفیر سائمن کرم اور اسرائیلی یحیئیل لیٹر، جو اپنے پختہ موقف کے لیے مشہور دو تجربہ کار سیاستدان ہیں، اپنے ممالک کے درمیان دہائیوں سے جاری جنگ کی حالت کے بعد کل جمعرات کو براہ راست مذاکرات کے لیے واشنگٹن میں آمنے سامنے ملاقات کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تاریخی پیش رفت کی امید ہے۔ یاد رہے اس دوران اسرائیل لبنان پر مہلک حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کی افواج نے جنوب کے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

لبنان جنگ بندی کی توثیق اور اپنی سرزمین سے اسرائیل کے انخلاء چاہتا ہے۔ تل ابیب حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کی ضمانت چاہتا ہے۔ حزب اللہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتی اور کہتی ہے کہ اس کا اسلحہ اندرونی معاملہ ہے اور مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔ ان دو مذاکرات کاروں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست بات چیت کے تیسرے دور کی قیادت کر رہے ہیں؟

خود مختار مذاکرات کار

سائمن کرم، جنہیں لبنانی صدر جوزف عون نے گزشتہ ماہ لبنانی مذاکراتی وفد کا سربراہ مقرر کیا تھا، ایک قانون دان اور سابق سفیر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ نوے کی دہائی کے اوائل سے اپنی سیاسی جدوجہد اور لبنان کی خودمختاری کے سخت دفاع کے لیے مشہور ہیں۔

ان کو اس مشکل مشن کی ذمہ داری جوزف عون کی جانب سے 2025 کے آخر میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے مقررہ پانچ رکنی کمیٹی کے لبنانی وفد کا سویلین سربراہ مقرر کیے جانے کے بعد ملی۔ اس جنگ بندی سے نومبر 2024 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جنگ کا خاتمہ کیا گیا تھا۔

فرانس پریس ایجنسی کے مطابق 76 سال کے سائمن کرم کا تعلق جنوبی لبنان کے قصبے جزین سے ہے۔ وہ ایک آزاد سیاست دان ہیں جو اپنی قومی سوچ اور پورے ملک پر قانونی افواج کے ذریعے ریاست کی خودمختاری کے اختیار کی حمایت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ یاد رہے لبنان ایا ایسا ملک میں جو شدید فرقہ وارانہ اور سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔

مزید برآں دھیمے مزاج کے وکیل سائمن کرم کے بارے میں جانا جاتا ہے کہ وہ میڈیا میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ لیکن وہ دہائیوں سے اپنی سیاسی و فکری سرگرمیوں، مکالماتی ملاقاتوں اور سیمینارز میں شرکت اور اپنے قومی نظریات پر سمجھوتہ نہ کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ ان کے جاننے والے اس سب کی تصدیق کرتے ہیں۔

دسمبر میں جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے دو اجلاسوں، جس میں امریکہ، فرانس، اقوام متحدہ اور اسرائیل کے نمائندوں نے شرکت کی، میں شرکت کے دوران بات چیت کے مواد سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ سائمن کرم ایک پرعزم اور معقول مذاکرات کار تھے۔ انہوں نے خاص طور پر جنوبی باشندوں کی اپنے قصبوں میں واپسی کے مطالبے پر اصرار کیا اور دیہاتیوں کے اپنی زمین کے ساتھ جذباتی لگاؤ کی تفصیل سے وضاحت کی تھی۔

سیاسی تجزیہ نگار علی الامین، جن کی سائمن کرم کے ساتھ دہائیوں سے دوستی ہے، کا خیال ہے کہ لبنانی صدر جوزف عون کی جانب سے مذاکراتی وفد کی سربراہی کے لیے ان کا انتخاب اس وجہ سے ہے کہ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو اپنے نظریات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ ان کی ایک قومی تاریخ ہے اور وہ کسی مشتبہ سمجھوتے میں ملوث نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسے شخص نہیں ہیں جو میز کے نیچے سودے بازی کریں۔ انہوں نے اندرون و بیرون ملک تعلقات کے باوجود کبھی کسی عہدے کی خواہش نہیں کی اور مذاکرات کے دوران لبنانیوں کے لیے ان پر اعتماد کا یہی سب سے بڑا عنصر ہونا چاہیے۔

خیال رہے سائمن کرم نے اپنی عوامی سرگرمیوں کا آغاز 1990 میں بقاع (ملک کے مشرق) اور پھر بیروت کا گورنر مقرر ہونے سے کیا۔ اس سے بعد وہ 1992 میں واشنگٹن میں سفیر مقرر ہوئے۔ لیکن انہوں نے اگلے ہی سال اچانک استعفیٰ دے دیا۔ اس اقدام کے بارے میں اس وقت کے مبصرین کا خیال تھا کہ اس کا تعلق لبنانی حکام کے موقف کے ساتھ ان کے اختلاف سے تھا جو براہ راست شامی اثر و رسوخ کے تابع تھے۔ پھر وہ 2001 میں "قرنة شہوان ملاقات" کے ممتاز بانیوں میں سے ایک بن گئے۔ یہ ایک مسیحی سیاسی بلاک تھا جس کا آغاز آنجہانی مارونی پیٹریاک نصر اللہ صفیر کی سرپرستی میں ہوا تھا جن سے سائمن کرم بہت قریب تھے۔ انہوں نے لبنان میں شامی موجودگی کے خلاف 2005 میں ان کی افواج کے انخلاء تک جدوجہد کی تھی۔

نیتن یاہو کا اتحادی

جہاں تک امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یحیئیل لیٹر کا تعلق ہے، تو وہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے پرانے اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ 67 سالہ یحیئیل لیٹر، جو اسرائیلی بستیوں کی پالیسیوں، قدامت پسند سرگرمیوں اور سخت سفارتی آداب سے اچھی طرح واقف ہیں، نے جنوری 2025 میں واشنگٹن میں اسرائیل کے سفیر کے طور پر اپنا عہدہ سنبھالا ہے۔

امریکہ میں پیدا ہونے والے یحیئیل لیٹر 18 سال کی عمر میں اسرائیل ہجرت کر گئے تھے اور بعد میں انہوں نے امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے پر کام کیا۔ انہوں نے 1982 میں اسرائیلی فوج میں اس وقت جنگی طبی امداد دینے والے کے طور پر بھی خدمات انجام دیں جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تھا۔

یحیئیل لیٹر ایک مورخ اور مستند ربی ہیں۔ وہ نوے کی دہائی میں "یشع کونسل" کے رہنماؤں میں سے ایک کے طور پر ابھرے۔ یشع کونسل مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی نمائندگی کرنے والی ایک بڑی تنظیم ہے۔ پھر اسرائیلی-فلسطینی امن عمل کے سب سے زیادہ تقسیم شدہ مراحل کے دوران یحیئیل لیٹر آبادکاری کی تحریک کے ممتاز حامیوں اور ایک نمایاں قوم پرست شخصیت بن گئے۔ ان کا اثر و رسوخ بعد میں اس وقت حکومتی کاموں تک پھیل گیا جب انہوں نے دو ہزار کی دہائی کے اوائل میں نیتن یاہو کے وزیر خزانہ ہونے کے دوران ان کے دفتر کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔ اس نے ان کے درمیان طویل مدتی سیاسی اتحاد بنانے میں مدد کی۔

یحیئیل لیٹر نیتن یاہو کی لیوڈ پارٹی کے رکن ہیں۔ انہوں نے کئی دائیں بازو کے اسرائیلی تھنک ٹینکس کے لیے سٹریٹجک ماہر اور مشیر کے طور پر بھی کام کر رکھا ہے۔ مزید برآں وہ غزہ کی جنگ سے ذاتی طور پر متاثر ہوئے، کیونکہ ان کا بیٹا موشے نومبر 2023 میں پٹی میں لڑائی کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔ یہ سات اکتوبر کو اسرائیلی بستیوں اور اڈوں پر حماس کے حملے کے ایک ماہ بعد کا واقعہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی سے پہلے یحیئیل لیٹر سابق امریکی صدر جو بائیڈن پر اپنی شدید عوامی تنقید کے لیے جانے جاتے تھے۔ انٹرنیٹ پر نشر ہونے والے اسرائیلی چینل "ٹوف" کو 2024 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بائیڈن کے دور میں غزہ جنگ کے دوران اسرائیل پر امریکی دباؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ سفیر مقرر ہونے کے بعد انہوں نے اپنی امریکی شہریت چھوڑ دی تھی۔

مئی 2025 میں لیٹر کو ایک تادیبی سیشن میں اس وقت بھیجا گیا تھا جب ان پر نیتن یاہو کے مخالفین پر ان کے خلاف جھوٹے اور سنگین الزامات پھیلانے کا الزام لگایا گیا تھا جو ان روایات کی خلاف ورزی تھی جو سفارت کاروں کو سیاسی بیانات دینے سے روکتی ہیں۔ اسرائیلی سفیر لیٹر نے ہمیشہ خود کو علاقائی منظر نامے کی ازسرنو ترتیب کے حامی کے طور پر پیش کیا ہے۔

واضح رہے لبنان اور اسرائیل نے گزشتہ ماہ اپریل 2026 واشنگٹن میں سفیروں کی سطح پر دو سابقہ دور مکمل کیے تھے۔ جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں