اسرائیلی آبادکاروں کا مغربی کنارے میں گھروں پر دھاوا، مسجد کو آگ لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی آبادکاروں نے جمعہ کی صبح مغربی کنارے کے متعدد فلسطینی دیہات پر دھاوا بول دیا اور رام اللہ کے قریب ایک مسجد کو آگ لگا دی، یہ اطلاع فلسطینی خبر رساں ایجنسی ''وفا'' نے دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آبادکاروں نے کئی گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیا اوروہ نابلس کے قریب دیہات میں گھروں کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہوئے، جس کے باعث مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ابتدائی طور پر اسرائیلی فوج نے ان واقعات کی تصدیق نہیں کی۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، حالانکہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

مغربی کنارے کے لیے اسرائیلی فوجی کمانڈر آوی بلوٹ نے حالیہ دنوں میں آبادکاروں کے حملوں کی شدید مذمت کی، تاہم اسرائیلی فوج پر یہ الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ اس تشدد کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی، جبکہ بعض الزامات میں فوجیوں پر آبادکاروں کی مدد کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

یہ تازہ پرتشدد واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں ،جب ایک روز قبل ہی ہزاروں اسرائیلیوں نے یروشلم میں سالانہ ''فلیگ مارچ'' میں شرکت کی تھی، جسے فلسطینی اشتعال انگیز کارروائی قرار دیتے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق مارچ کے شرکا نے یروشلم کے قدیم شہر، خصوصاً اسلامی علاقے سے گزرتے ہوئے عرب مخالف نعرے لگائے، جبکہ بعض افراد نے مقامی فلسطینیوں پر حملے کیے اور دکانوں کے شیشے بھی توڑ دیے۔

یہ مارچ اسرائیل کے نام نہاد ''یومِ یروشلم'' کے موقع پر نکالا جاتا ہے، جس میں 1967 کی جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کا جشن منایا جاتا ہے۔

اسی جنگ میں مغربی کنارے پر بھی اسرائیلی قبضہ قائم ہوا تھا۔اس کے اگلے روز فلسطینی "یومِ نکبہ" مناتے ہیں، جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے دوران فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی اور فلسطینی دیہات کی تباہی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں