اسرائیلی آبادکاروں نے رام اللہ کے قریب زیتون کے درخت اکھاڑ دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

آبادکاروں نے پیر کو رام اللہ کے مشرق میں طیبہ قصبے میں زیتون کے درخت کاٹ ڈالے۔

انسانی حقوق کی تنظیم البیدر کے مطابق متعدد آبادکاروں نے علاقے میں زیتون کے کئی درخت کاٹ دیے جو زرعی زمینوں اور فلسطینی املاک کو نشانہ بنانے کے جاری حملوں کا حصہ ہیں۔

تنظیم نے یہ بھی نوٹ کیا کہ آبادکاروں نے قصبے کے مشرق میں ابو فزاع الکعابنہ کمیونٹی پر حملہ کر دیا اور سکول جاتے ہوئے بچوں کو ہراساں اور خوفزدہ کیا۔

وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق آبادکاروں کے اسرائیلی فوج کی مدد سے حملوں کے نتیجے میں 4,414 درختوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا یا تباہ اور زہر آلود کر دیا گیا۔ یہ تمام زیتون کے درخت تھے۔ ہیبرون گورنری میں 2,169، رام اللہ اور البریح میں 1170، نابلس میں 340 یروشلم میں 200 اور بیت لحم میں 135 درخت ضائع کیے گئے۔

پیر کی صبح ہیبرون کے جنوب میں وادی الرخیم کے علاقے میں آبادکاروں نے مولوٹوف کاک ٹیلز کے ساتھ بھیڑوں کے ایک باڑے اور تندور کو آگ لگا دی۔

آبادکاری مخالف کارکن اسامہ مہکامہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں کی حفاظت میں متعدد مسلح نوآبادکاروں نے وادی الرخیم میں ریاض یوسف شانارن کے گھر پر حملہ کر دیا اور اس پر مولوٹوف کاک ٹیل پھینکے جس سے اس کے بھیڑوں کے باڑے اور تندور کو آگ لگ گئی۔

انہوں نے بتایا کہ آگ بجھانے کی کوشش کے دوران شانارن کا ہاتھ جھلس گیا۔

پیر کے روز بھی اسرائیلی افواج نے بیت لحم کے جنوب مشرق میں واقع قصبے تقوع میں 15 گھروں کو مسمار کرنے اور کام روک دینے کے احکامات جاری کیے جن میں سے بعض گھر لوگوں سے آباد ہیں۔

تقوع کے میئر صقر سلیمان نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے قصبے کے مغرب میں چھاپہ مارا اور گھروں کو مسمار کرنے اور کام روک دینے کے احکامات جاری کیے۔

پیشگی اطلاع کے باوجود رہائشیوں کو احکامات کی تعمیل کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔

سلیمان نے نشاندہی کی کہ یہ گھر کئی رہائشیوں کی ملکیت ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں