ہم جنگ کے معاشی اثرات پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں : پزشکیان
ہم جنگ اور محاصرے کے سائے میں غیر معمولی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ اور محاصرے کے سائے میں ان کا ملک غیر معمولی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ انھوں نے جنگ کے معاشی اثرات کو روکنے کے لیے کام کرنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے باور کرایا ہے کہ ان کی حکومت محدود وسائل کے باوجود مشکلات کو حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری حکام نے گذشتہ پورے عرصے کے دوران کوئی چھٹی نہیں کی ہے۔
پزشکیان نے زور دیا کہ ان کا ملک ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس میں شہریوں سے معاشی مشکلات کو قبول کرنے اور توقعات کا گراف کم کرنے کا تقاضا ہے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا "ایسی ہر جگہ سے دور رہیں جہاں تفرقہ انگیزی کا ارادہ ہو، لیکن ہمیں حقائق کو دیکھنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمیں نقصان نہیں پہنچا اور نہ ایسا ہے کہ حکومت کے پاس وسائل ہوں اور وہ سو رہی ہو جبکہ عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں۔ ہمارے وزراء اور ماہرین دن رات اپنے کام پر موجود ہیں، یہاں تک کہ مجھے یاد نہیں کہ ہم نے گذشتہ پورے عرصے کے دوران ایک دن بھی چھٹی کی ہو"۔
پزشکیان نے کہا "جو بھی ذمے داری کے عہدے پر ہو، اسے معاشرے اور شہریوں سے سچ بولنا چاہیے اور اسے گمراہ کن معلومات یا پیغامات نہیں دینے چاہئیں۔ عوام کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ دشمن تباہ ہو رہا ہے جبکہ ہم خوش حالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم آرام یا ذاتی مفادات کے لیے اپنے ملک کی عزت اور وقار کا سودا نہیں کریں گے"۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات سے انکار کی کوئی منطق نہیں دیکھتے۔ انہوں نے "عاقلانہ جوابات" حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کے دوران عقل و دانش کے ساتھ گفتگو کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پزشکیان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
بلومبرگ نیوز ایجنسی نے پیر کے روز رپورٹ دی کہ محاصرے اور جہاز رانی کی معطلی کے نتیجے میں ایران کے تقریباً 23 تیل بردار بحری جہاز جزیرہ خارگ میں برآمدی تنصیبات کے قریب رک گئے ہیں، جبکہ گذشتہ 13 اپریل کو امریکی فوجی کارروائیوں کے آغاز سے پہلے ایسے صرف 4 بحری جہاز تھے۔
دوسری جانب "ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف متحد" (UANI) تنظیم کے تجزیہ کاروں اور مشیروں نے تصدیق کی ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اسٹوریج کی تنصیبات پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور برآمدی نظام میں واضح تاخیر اور رکاوٹوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس نے تہران کو فالتو تیل نکالنے کی گنجائش نہ ہونے کے باعث اپنی تیل کی پیداوار میں بتدریج کمی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
تہران کو آبنائے ہرمز کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے روکنے کے لیے "بحری محاصرے" کے دائرہ کار کے تحت، امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹموتھی ہوکنز نے اعلان کیا ہے کہ 17 مئی تک محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے 81 تجارتی جہازوں کو روک کر ان کا رخ موڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ عمان اور ایرانی بندرگاہوں کے علاقے میں 4 دیگر جہازوں کو ناکارہ اور تباہ کیا گیا ہے۔