ایران معاہدے کے لیے منتیں کر رہا ہے، دوبارہ حملہ کرنا پڑ سکتا ہے:ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف

جے ڈی وینس کا ایران کے ساتھ مذاکرات میں بڑی پیش رفت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، اور وہ حملہ کرنے کا فیصلہ کرنے ہی والے تھے کہ انہوں نے اسے ملتوی کر دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ یہ گفتگو انہوں نے تہران کی جانب سے امن کی نئی تجویز پیش کیے جانے کے بعد حملے دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ معطل کرنے کے اعلان کے ایک دن بعد کی۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ میں آج حملے کا فیصلہ کرنے سے محض ایک گھنٹہ دور تھا۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ ایرانی رہنما معاہدے کے لیے منتیں کر رہے ہیں، لیکن اگر معاہدہ طے نہ پا سکا تو امریکہ آنے والے دنوں میں نیا حملہ شروع کر دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹھیک ہے، میں دو یا تین دن کی بات کر رہا ہوں، شاید جمعہ، ہفتہ یا اتوار، یا شاید اگلا ہفتہ، یہ ایک محدود وقت ہے کیونکہ ہم انہیں نئے سرے سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل بتایا تھا کہ تہران کی جانب سے امریکہ کو پیش کی گئی امن کی تازہ ترین تجویز میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر معاندانہ کارروائیوں کا خاتمہ، ایران کے قریبی علاقوں سے امریکی افواج کا انخلا اور امریکہ و اسرائیل کے حملے سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا شامل ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تنازعے میں سفارت کاری کو اگلے ہفتے کے آغاز تک موقع دینے اور اس وقت تک فوجی کارروائیوں کی بحالی کو ملتوی کرنے کی آمادگی کا اعلان کیا۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے احکامات جاری کرنے سے پہلے انتظار کی مدت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وضاحت کی کہ میں دو یا تین دن کی بات کر رہا ہوں، شاید جمعہ، ہفتہ یا اتوار۔ شاید اگلے ہفتے کا آغاز، یہ ایک محدود مدت ہے کیونکہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ انہیں ایسے رابطے موصول ہوئے ہیں جن سے تصدیق ہوتی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے مجھے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اچھی خبریں ہیں اور میں نے ان رابطوں کے بعد ہی ایران پر حملہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عزم کیا تھا اور پھر اپنا ارادہ بدل لیا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران اور جوہری ہتھیاروں کے درمیان کھڑے ہوں گے، خواہ یہ معاہدے کے ذریعے ہو یا طاقت کے ذریعے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ایران کو جوہری ہتھیار مل جاتے تو وہ ان کا استعمال ضرور کرتا اور اگر اس کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ پڑوسی ممالک پر حملہ کر دیتا۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ایران کی میزائل اور ڈرون داغنے کی صلاحیت کو مفلوج کرنے میں کامیاب رہا، انہوں نے یہ رائے بھی دی کہ ایران میں جو کچھ ہوا ہے وہ حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) ہے۔ ایک اور سیاق و سباق میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو ایک اقتصادی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مذاکرات میں بڑی پیش رفت

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران نے اپنے مذاکرات میں بڑی پیش رفت کی ہے، دونوں فریق عسکری مہم کو دوبارہ شروع کرنے کی خواہش نہیں رکھتے۔

جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ ہم نے بڑی پیش رفت کی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایرانی ایک معاہدے تک پہنچنے کے خواہشمند ہیں۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ انہوں نے ابھی ٹرمپ سے بات کی ہے، جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے لیے بنیادی مسئلہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کا صیغہ راز میں افزودہ کیا گیا یورینیم روس منتقل کیا جا سکتا ہے، تو جے ڈی وینس نے کہا کہ یہ فی الحال امریکی حکومت کا منصوبہ نہیں ہے اور ایرانیوں نے یہ موضوع نہیں اٹھایا۔

گرلز سکول میں کروز میزائلوں کا اڈہ

ایک اور معاملے میں، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے منگل کے روز کانگریس کے سامنے گواہی دیتے ہوئے ایران کے شہر میناب میں ایک گرلز سکول پر بمباری کے حوالے سے امریکی فوج کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کو پیچیدہ قرار دیا ہے، کیونکہ یہ سکول کروز میزائل داغنے کے ایک سرگرم ایرانی فوجی مرکز کے اندر واقع تھا۔

یہ حملہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے دن ہوا تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں 168 بچے ہلاک ہوئے جن میں اکثریت لڑکیوں کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں