ایران جنگ

ایران امریکی جواب کا جائزہ لے رہا، چند گھنٹوں میں معاہدے کے اعلان کی توقعات

امریکی نقطہ نظر موصول ہوگیا، جائزہ لے رہے: اسماعیل بقائی، مذاکرات کا نیا دور حج کے بعد اسلام آباد میں ہوگا: ذرائع العربیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایران کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے مقصد سے جاری مذاکرات کے فریم ورک کے اندر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہی ہے ۔ ایرانی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کا استقبال کیا۔ پاکستان فریقین کے درمیان ثالثی کی قیادت کر رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے بیانات میں کہا ہے کہ ہمیں امریکی فریق کے نقطہ نظر موصول ہوئے ہیں اور ہم فی الحال ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستانی وزیر داخلہ کی آمد امریکہ کے ساتھ پیغامات کے تبادلے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ہے۔

اسماعیل بقائی نے تہران کی شرائط کا اعادہ کیا جن میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا حتمی خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کا اجرا اور ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستانی وزیر داخلہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کے پس منظر میں ایک ہفتے کے دوران دوسری مرتبہ آج ایران کا دورہ کر رہے ہیں۔ پاکستانی وزیر داخلہ نے تہران میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ سے ملاقات کی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق نقوی نے گزشتہ ہفتے ہفتے کے روز ایرانی اور امریکی فریقین کے درمیان مذاکرات کے عمل کو "آسان" بنانے کے مقصد سے تہران کا دورہ کیا تھا۔ "العربیہ" اور "الحدث" چینلز کے ذرائع نے بتایا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ معاہدے کے حتمی صیغے کا اعلان کرنے کے لیے کل ایران کا دورہ کر سکتے ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے حتمی صیغے کی تکمیل کا اعلان چند گھنٹوں میں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ مذاکرات کا نیا دور حج کے سیزن کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ اس قبل "العربیہ" اور "الحدث" چینلز کے ذرائع نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کو بعض معاشی نکات، جن میں ایران پر سے پابندیوں میں نرمی شامل ہے، میں محدود امریکی لچک سے آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے اسلام آباد کو مطلع کیا ہے کہ وہ جوہری مطالبات اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سکیورٹی کے معاملے پر کوئی رعایت نہیں دے گا۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ ایران اب بھی مستقبل میں کسی بھی حملے کی تکرار کو روکنے کے حوالے سے امریکی ضمانتوں کو ناکافی سمجھتا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل 19 مئی کو اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے لیکن واشنگٹن معاہدے تک نہ پہنچنے کی صورت میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ جے ڈی وینس ، جنہوں نے مذاکرات کے لیے اپریل میں پاکستان جانے والے ایک امریکی وفد کی قیادت کی تھی جس کے نتیجے میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، نے کہا کہ اچھی پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن ہم کام جاری رکھیں گے اور آخر کار ہم کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے یا نہیں پہنچیں گے۔

جے ڈی وینس کے بیانات سے چند گھنٹے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ نئے حملوں کا حکم دینے کے قریب تھے اور انہوں نے تہران کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے دو یا تین دن کی مہلت دی ہے۔ یاد رہے ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی چھ ہفتوں کی جنگ کے بعد ایک نازک جنگ بندی نافذ ہے لیکن پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات رک گئے تھے۔

واشنگٹن تہران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو ترک کر دے اور تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے جہاں سے عام طور پر دنیا کی تیل اور مائع گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ دوسری جانب ایران جنگی نقصانات کے معاوضے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور تمام محاذوں پر لڑائی روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں