لبنان کی سیاسی اور سکیورٹی شخصیات امریکی پابندیوں کی زد میں. اسپیکر نبیہ بری کے لیے پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک غیر متوقع اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے امریکہ نے گذشتہ روز جمعرات کو نو لبنانی سیاسی اور سکیورٹی شخصیات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کا موقف ہے کہ ان شخصیات نے حزب اللہ تنظیم کو ملک کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے کے قابل بنانے میں کردار ادا کیا۔ ان پابندیوں کی زد میں پارلیمنٹ میں حزب اللہ تنظیم کے موجودہ ارکان ابراہیم الموسوی، حسن فضل اللہ، حسین الحاج حسن اور سابق وزیر محمد فنیش آئے ہیں۔

اس فیصلے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ پہلی بار لبنانی ریاست کے دو اعلیٰ سکیورٹی افسران کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں بیروت کے جنوبی مضافات میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کرنل سامر حمادہ اور جنرل سکیورٹی کے شعبہ تجزیہ کے سربراہ بریگیڈیئر خطار ناصر الدین شامل ہیں۔ ان کے علاوہ حزب اللہ تنظیم کے اہم ترین اتحادی، امل تحریک کے سکیورٹی انچارج احمد بعلبکی اور جنوب میں تحریک کے قائد احمد صفاوی بھی ان پابندیوں کی زد میں آئے ہیں۔ نیز لبنان میں تعینات ایرانی سفیر محمد رضا شیبانی پر بھی پابندی لگائی گئی ہے، جن کا سفارتی اجازت نامہ لبنانی حکام نے گذشتہ مارچ میں منسوخ کرتے ہوئے انھیں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا، مگر انھوں نے ایرانی وزارت خارجہ کے حکم پر جانے سے انکار کر دیا۔

امل تحریک کے ذرائع نے امریکی وزارت خزانہ کے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی برادری اور بالخصوص اسپیکر پارلیمنٹ نبیہ بری پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے۔ دوسری طرف سابق لبنانی رکن پارلیمنٹ بریگیڈیئر (ر) وہبی قاطيشا کا کہنا ہے کہ احمد بعلبکی تحریک کے مالیاتی امور کے نگران ہیں اور ان شخصیات کو نشانہ بنانا نبیہ بری کے لیے ایک بالواسطہ پیغام ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی افسران پر پابندیاں 29 مئی کو پینٹاگان میں ہونے والے لبنانی و اسرائیلی فوجی اجلاس اور جون کے اوائل میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات سے قبل ایک اہم اشارہ ہیں۔ سکیورٹی افسر کا نام پاسپورٹ کی جعل سازی اور ایرانی پاسداران انقلاب کے ارکان کو لبنانی پاسپورٹ فراہم کرنے کے معاملے سے جڑا ہے اور یہ پابندیاں محض ایک شروعات ہیں۔

محمد رضا شیبانی

سیاسی تجزیہ کار بشارہ خیراللہ نے بھی اسے کثیر الجہتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد سکیورٹی اداروں کو حزب اللہ تنظیم کے اثر و رسوخ سے پاک کرنا ہے اور مستقبل میں مزید نام بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ دوسری جانب لبنانی جنرل سکیورٹی کے میڈیا آفس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ماضی میں سامنے آنے والے جعل سازی کے معاملات کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ غیر ملکیوں کو پاسپورٹ ان کی جانب سے فراہم کردہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر جاری ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں