چار یورپی ملکوں کا اسرائیل سے مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع روکنے کا مطالبہ
فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کا تشدد غیر معمولی سطح تک پہنچ چکا: اٹلی، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کا مشترکہ بیان
اٹلی، فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی بستیوں کی توسیع کو روک دے۔ چاروں ملکوں نے آباد کاروں کے تشدد کی کی اور تعمیراتی کمپنیوں کو ٹینڈرز میں حصہ لینے کے خلاف خبردار کیا ہے۔
ایک مشترکہ بیان میں ان چار ملکوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بستیوں کی توسیع اور اپنے انتظامی اختیارات کو ختم کرے،۔ آباد کاروں کے تشدد کے لیے جوابدہی کو یقینی بنائے اور اسرائیلی فورسز کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کرے۔ ان ملکوں نے نشاندہی کی کہ فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کا تشدد غیر معمولی سطح تک پہنچ چکا ہے۔
عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی
چار ملکوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ E1 بستی کا منصوبہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے اسرائیل نے اگست 2025 میں ای ون منصوبے کی منظوری دی تھی جو مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گا جس سے مستقبل کی فلسطینی ریاست کے کسی بھی جغرافیائی تسلسل کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
اسرائیل نے دسمبر میں مشرقی االقدس میں 12 مربع کلومیٹر کے رقبے پر 3400 رہائشی یونٹس کی تعمیر کا ٹینڈر جاری کیا تھا۔
یورپی یونین کے رہنماؤں کے نام کھلا خط
واضح رہے رواں مئی کے اوائل میں 400 سے زیادہ سابق یورپی وزراء، سفیروں اور عہدیداروں نے یورپی یونین کے رہنماؤں کے نام ایک کھلے خط میں مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے ای ون (ایسٹ 1) منصوبے کے ذریعے کی جانے والی غیر قانونی الحاق کے خلاف ابھی اقدام کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیل ہزاروں مکانات تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
448 دستخط کنندگان، جن میں یورپی کمیشن کے سابق نائب صدر جوزپ بوریل اور بیلجیم کے سابق وزیر اعظم گائے ویرہوفسٹڈ شامل ہیں، نے لکھا کہ یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کو اپنے شراکت داروں کے تعاون سے اسرائیل کو مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی کے غیر قانونی الحاق کو جاری رکھنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔