جب سعودی ریاست نے مختلف علاقوں اور شہروں کو متحد کرنا شروع کیا تو دنیا بھر کے مسلمانوں نے امن و اطمینان کی ایسی فضا دیکھی، جس نے انہیں حج، عمرہ اور روئے زمین کے مقدس ترین مقام کی زیارت کی طرف مزید راغب کیا۔
اسی سوچ کے تحت ریاست کے قیام کے بعد ایک ایسا نظام تشکیل دیا گیا، جس کا بنیادی مقصد مشاعر مقدسہ اور حرم مکی کی خدمت و نگہداشت تھا۔
اس کی بنیاد بانیٔ مملکت شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن کے دور میں رکھی گئی، سعودی عرب آج تک اسی پالیسی پر گامزن ہے۔
حرم مکی کی خدمت سے متعلق سعودی اقدامات میں ''مکہ کی پہلی گھڑی ''ایک اہم تاریخی سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔
یہ ایک ابتدائی ترقیاتی منصوبہ تھا جسے بانیٔ مملکت شاہ عبدالعزیز نے 1930 کی دہائی میں نمازوں کے اوقات منظم کرنے اور بیت اللہ آنے والوں کی سہولت کے لیے شروع کیا۔
1352 ہجری بمطابق 1933 میں شاہ عبدالعزیز نے مسجد الحرام میں ایک بڑی گھڑی نصب کرنے کا حکم دیا۔
اس منصوبے کی ذمہ داری اُس وقت کے وزیرِ خزانہ عبداللہ بن سلیمان الحمدان کو سونپی گئی، جنہوں نے یہ گھڑی جرمنی سے جدہ بندرگاہ کے ذریعے منگوائی، جبکہ اس کی تنصیب کی نگرانی مکہ مکرمہ کے اُس وقت کے میئر عباس قطان نے کی۔
گھڑی کی تنصیب کی تفصیلات اُس دور کے سرکاری اخبار ''ام القریٰ'' میں بھی شائع ہوئیں۔ یہ گھڑی ''دارالحکومت'' کی عمارت کے اوپر تقریباً 30 میٹر بلند مقام پر نصب کی گئی۔
اس کے ٹاور کی تعمیر رجب میں شروع ہوئی اور شعبان کے آخر تک مکمل کر لی گئی۔گھڑی کو دو بڑے رخوں کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تھا۔
ایک رخ مسجد الحرام اور شارع المسعیٰ کی طرف جبکہ دوسرا شارع اجیاد کی سمت تھا۔ سفید پس منظر اور سیاہ سوئیوں کے ساتھ رات کے وقت بجلی کی روشنی کا انتظام بھی کیا گیا تاکہ دور سے واضح نظر آئے۔
سرکاری منظوری سے پہلے اس کا مؤذنوں کی اذان کے ساتھ باقاعدہ تجربہ بھی کیا گیا۔دارہ الملک عبدالعزیز کے مطابق اُس زمانے میں یہ گھڑی مسجد الحرام میں وقت معلوم کرنے کا بنیادی ذریعہ تھی۔
نمازیوں و طلبۂ علم کے لیے نمازوں کے درست اوقات جاننے میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔ بعد میں یہ گھڑی حرم مکی میں ترقیاتی اور انتظامی منصوبوں کی ابتدائی علامت بن گئی۔
آج اس گھڑی کے کچھ حصے ''نمائشِ عمارۃ الحرمین الشریفین'' میں محفوظ ہیں، جہاں انہیں سعودی عرب کی جانب سے حرمین شریفین کی مسلسل خدمت کی یادگار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے سعودی عرب نے اگست 2011 میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے دور میں ''مکہ کلاک'' منصوبہ شروع کیا۔
اس گھڑی کے ذریعے مکہ مکرمہ کے وقت کو عالمی معیار کے طور پر پیش کیا گیا، جو عالمی وقت سے تین گھنٹے آگے ہے۔حرم مکی کے قریب بلند ٹاور پر نصب اس عظیم گھڑی کو تقریباً 300 سالہ آپریشنل مدت کے لیے ڈیزائن کیا گیا۔
اس کی بیرونی ساخت میں 88 ملین موزیک ٹکڑے اور 20 لاکھ ایل ای ڈی لائٹس استعمال کی گئیں۔
اس منصوبے پر 56 ارب سعودی ریال، یعنی تقریباً 15 ارب امریکی ڈالر لاگت آئی، جس کے باعث اسے دنیا کی مہنگی ترین بلند عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔